سٹی42: تاریخ میں سونے کی سونے کی سب سے بڑی ڈکیتی میں مطلوب شخص بھارتی نکلا، واردات کے بعد خاموشی سے بھارت پہنچ گیا۔
بھارت کے میڈیا میں یہ تہلکہ خیز اطلاعات رپورٹ ہوئی ہیں کہ کینیڈا کی تاریخ میں سونے کی سب سے بڑی ڈکیتی کا ذمہ دار ڈکیٹ بھارتی ہے اور اسے بھارت میں تلاش کر لیا گیا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ مقامی پولیس نے اب تک غیر معمولی ڈکیتی کے اس مفرور کو گرفتار نہیں کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کینیڈا میں 2 کروڑ ڈالر ( 556 کروڑ پاکستانی روپے) سے زیادہ مالیت کے سونے کی ڈکیتی کے لیے کینیڈا میں پولیس کو مطلوب ایئر کینیڈا کا سابق مینیجر 32 سالہ سمرن پریت پنیسر چندی گڑھ کے مضافات میں اپنے خاندان کے ساتھ خاموشی سے رہائش پذیر ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس کی بیوی پریتی پنیسر بھی ان کے ساتھ رہتی ہے۔ پریتی جو سابق گلوکارہ اور اداکارہ ہے، اس کا اس ڈکیتی میں کوئی کردار نہیں ہے۔
17 اپریل 2023 کو ایک پرواز سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ سے پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری، جس میں خالص سونے کی 6600 اینٹیں تھیں، جن کا وزن 400 کلوگرام تھا، سونے کی اس کنسائنمنٹ کے ساتھ 25 لاکھ کینیڈین ڈالر مالیت کی غیرملکی کرنسی بھی بھیجی گئی تھی۔
لینڈنگ کے کچھ دیر بعد کارگو کو ہوائی جہاز سے اتار دیا گیا اور اس کارگو کو ہوائی اڈے کی ملکیت ایک مقام پر پہنچا دیا گیا۔ لیکن ایک دن بعد 18 اپریل کو صبح کے اوقات میں کارگو کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی۔
ایک سال کی تفتیش کے بعد پولیس دو بھارتی نژاد کینیڈین شہریوں کی تلاش میں تھی جو اس گودام میں کام کرتے تھے جہاں سے مبینہ طور پر سونا چوری کیا گیا تھا۔
ان دونوں کی شناخت پرمپال سدھو اور سمرن پریت پنیسر کے نام سے ہوئی۔ سدھو کو مئی 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ پنیسر جو اس گودام میں مینیجر کے طور پر کام کرتے تھے اور ڈکیتی کے بعد انہوں نے پولیس کو اس جگہ کا دورہ بھی کرایا تھا۔
بعد ازاں جولائی 2024 میں پنیسر کے وکیل گریگ لافونٹین نے بتایا کہ وہ اگلے چند ہفتوں میں خود کو پولیس کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ "وہ کینیڈا کے نظام انصاف پر بہت اعتماد رکھتے ہیں۔" سمرن پریت پنیسر کے کینیڈا میں وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں اور وہ مفرور کی ھیچیت سے بھارت میں مقیم ہے۔ اربوں روپے کی ڈکیتی کے بعد اب پنیسر اپنی بیوی کے ساتھ کرائے کے مکان میں زندگی گزار رہا ہے۔
میڈیا کے نمائندے اس تک پہنچ تو گئے لیکن وہ اب تک آزاد ہی ہے۔ اس نے ’قانونی وجوہات‘ کی وجہ سے ’آن ریکارڈ‘ بات کرنے سے انکار کر دیا۔
پنیسر نے پڑوسیوں کو بظاہر بتایا تھا کہ کینیڈا میں ان کا "مالیاتی تنازع ختم ہو گیا ہے۔" اگرچہ سمرن پریت پنیسر بھارت میں معمول کی زندگی گزار رہا ہے، تاہم پیل ریجنل پولیس سونے کی ڈکیتی کے حوالے سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
دستاویزات کے مطابق اس مقدمے کے تفتیشی افسران نے ’28 ہزار 96 گھنٹے کام اور 9500 گھنٹے اوور ٹائم‘ کیا ہے، جبکہ تفتیش اب بھی جاری ہے۔
کینیڈین پولیس کا کہنا ہے کہ سدھو اور پنیسر نے مل کر کام کیا اور اس ڈکیتی میں سہولت کاری کی۔