ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دوحہ میں حماس کے لیڈر حملے میں محفوظ رہے، نیتن یاہو نے مان لیا

Netanyahu's X post, tweet, Hamas leadership in Qatar, Gaza war, Israel Hamas war, ceasefire , hostages deal
کیپشن: اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو 12 ستمبر 2025 کو نیوز میکس سے بات کرتے ہوئے۔ (نیوز میکس اسکرین شاٹ)

سٹی42: دوحہ میں حماس کی قیادت کے دفتر پر حملے کے کئی روز بعد اسرائیل کے پرائم منسٹر نیتن یاہو نے تسلیم کر لیا کہ اس  ائیر سٹرائیک مین حماس کی قیادت محفوظ رہی۔ آج  یتن یاہو نے قطر پر حملہ میں حماس کے رہنماؤں کو مارنے کے لیے ناکام ہونے کا اقرار کیا۔

قطر میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی حملہ ناکام ہونے کے بڑھتے ہوئے اشارے کے درمیان، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے سختی سےکہا، کہ وہ اب بھی زندہ ہیں اور انہیں دوبارہ نشانہ بنایا جانا چاہیے۔

اس حملے کے کچھ ہی دیر بعد عرب میڈیا اور اس کے توسط سے اسرائیلی میڈیا نے بھی یہ بتا دیا تھا کہ اسرائیلی ائیر فورس کی ائیر سٹرائیکس میں کچھ لوگ مارے گئے ہیں لیکن حماس کی قیادت محفوظ رہی ہے۔

نیتن یاہو نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر  لکھا،  "قطر میں رہنے والے حماس کے دہشت گردوں کے سربراہ غزہ کے لوگوں کی پرواہ نہیں کرتے،" "انہوں نے جنگ بندی کی تمام کوششوں کو روک دیا تاکہ جنگ ختم نہ ہو سکے۔"

نیتن یاہو نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں مزید لکھا،  "ان سے چھٹکارا حاصل کرنے سے ہمارے تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے اور جنگ کے خاتمے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ختم ہو جائے گی،" انہوں نے یہ پوسٹ  یہودیوں کے کام نہ کرنے کے دن شبت کے اختتام کے فوراً بعد لکھی اور اس  میں ٹائپنگ کی غلطی تھی۔

یہ دلچسپ بات ہے کہ نیتن یاہو نے حماس کی قیادت کو  جنگ جاری رکھنے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اسرائیل میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر احتجاج کر کے جنگ بندی کے مسلسل مطالبے کر رہے ہیں۔ یہ لوگ جنگ بند  نہ کرنے کا ذمہ دار نیتن یاہو کو ٹھہراتے ہیں۔