پولیس میں سفارشی کلچر اور پی ٹی آئی حکومت

پولیس میں سفارشی کلچر اور پی ٹی آئی حکومت

تحریر: قیصر کھوکھر: پنجاب پولیس میں سفارشی کلچر دن بدن بڑھ رہا ہے اور پی ٹی آئی حکومت اپنے منشور سے ہٹ رہی ہے، الیکشن میں پی ٹی آئی کی حکومت نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ برسر اقتدار آ کر پولیس میں اصلاحات لائے گی اور ہر چیز میرٹ پر ہوگی اور پولیس اصلاحات کے تحت تمام تقرر و تبادلے صرف اور صرف میرٹ پر کئے جائیں گے لیکن سی سی پی او اور دیگر پولیس افسران کی تعیناتی ایک وجہ تنازعہ بنی ہوئی ہے اور سی سی پی او لاہور کو پنجاب حکومت نے ایک وفاقی عہدیدار کی سفارش پر تعینات تو کر دیا ہے لیکن آئے روز اس میرٹ سے ہٹ پر تعیناتی سے ایشوز پیدا ہو رہے ہیں۔

سی سی پی او لاہور شیخ محمد عمر کا پہلے آئی جی پولیس سے پھڈا پیدا ہو گیا اور اب ایک ریپ کیس میں غلط بیان دینا ایک مسئلہ بن گیا ہے ۔ ایک وفاقی عہدیدار کی سفارش پر سی سی پی او لاہور کو تعینات تو کر دیا گیا ہے اور اب اپنے دفتر کو چلانا سی سی پی او کا کام ہے ۔ سی سی پی او لاہور سے اپنا دفتر ہی نہیں چل رہا اور اس دفتر کے ایشو پر ایشو بن رہے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے جیسے ہی اقتدار سنبھالا تھا،وہ پولیس میں وسیع پیمانے پر اصلاحات لاتی اور کے پی کے ماڈل پولیس کا پنجاب میں بھی لاگو کرتی اور سابق آئی جی کے پی کے ناصر خان درانی کے تجربے سے مستفید ہوتی اور پنجاب پولیس کو سیاست فری کرتی لیکن یہاں ہر کام سفارش پر ہو رہا ہے اورآئی جی سے لے کر سپاہی تک کے تبادلے سفارش پر ہو رہے ہیں.

اورکہا جاتا ہے کہ اتحادی جماعت ق لیگ کو بھی تقرر و تبادلوں میں حصہ دیا گیا ہے اور گجرات اور منڈی بہائوالدین میں انتظامیہ ق لیگ کی سفارش پر تعینات کی گئی ہے اور سیکرٹری ماحولیات اور سیکرٹری معدنیات بھی ق لیگ کی سفارش پر لگائے گئے ہیں۔ اضلاع میں ڈی پی او اور ڈی سی بھی میرٹ کے بجائے سفارش پر لگائے جاتے ہیں جب ہر کام سفارش پر ہو رہا ہے اور حتیٰ کہ آئی جی پولیس انعام غنی کو بھی پرنسپل سیکرٹری تو وزیر اعظم اعظم خان کی سفارش پر لگایا گیا ہے کیونکہ انعام غنی براہ راست اعظم خان کے بیج میٹ ہیں اور دونوں کا تعلق کے پی کے سے ہے.

جب ایک آئی جی پک اینڈ چوز کی بنیاد پر لگایا جائے گا اور اس وقت پنجاب میں دو سال میں یہ چھٹا آئی جی پولیس ہے اور پے در پے آئی جی پولیس تبدیل ہو رہے ہیں اور چوتھا چیف سیکرٹری تعینات ہے۔ پنجاب میں کرائم کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور ریپ کیسز اور سنگین جرائم میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور کسی کی بھی جان و مال محفوظ نہیں۔ اچھے اور محنتی اور ایماندار افسران کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی بلال صدیق کمیانہ، ڈی آئی جی طارق عباس قریشی ، ڈی آئی جی سہیل حبیب تاجک بہترین افسر ہیں لیکن وہ کھڈے لائن نوکری کر رہے ہیں ۔

اگر میرٹ پر سی سی پی او لاہور اور آئی جی پولیس لگایا جاتا تو یہ مسائل پیدا نہ ہوتے اور ہر چیز از خود حل ہو جاتی اور کسی کو بھی ان تبادلوں پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملتا۔ سنٹرل سلیکشن بورڈ نے سی سی پی او لاہور شیخ محمد عمر کو مبینہ کرپشن الزامات پر تین سال کیلئے ترقی سے محروم کر دیا ہے اور انہیں ایڈیشنل آئی جی پولیس کے عہدہ پر ترقی نہیں دی ہے جبکہ ان کے بیج میٹ فیاض احمد دیو کو گریڈ21 میں ترقی مل چکی ہے اور ان کے ایک جونیئر محمد شہزاد سلطان کو بھی گریڈ21میں ترقی مل چکی ہے اور اس طرح سی سی پی او لاہور شیخ محمد عمر کو اگلے گریڈ میں ترقی نہیں دی گئی ہے اور اس طرح وہ سپر سیڈ ہو گئے ہیں۔

ایک افسر جس کو سنٹرل سلیکشن بورڈ نے مبینہ کرپشن الزامات پر ترقی سے محروم کر دیا اسے حکومت پنجاب نے ایک وفاقی عہدیدار کی سفارش پر سی سی پی او لاہور تعینات کر دیا اور اب اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔ پی ٹی آئی حکومت کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ تمام تر تقرر و تبادلے میرٹ پر کئے جائیں تاکہ سارے مسائل از خود حل ہو جائیں ۔ اس حوالے سے فوری طور پر ہر صوبہ میں تقرر و تبادلے کرنے کیلئے ایک بورڈ بنایا جائے جس میں اچھی شہرت کے حامل افسران کو شامل کیا جائے اور اگر ہو سکے تو ریٹائر افسران بھی اس میں شامل کئے جائیں۔

یہ بورڈ تقرر و تبادلوں کیلئے حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے اور وزیر اعلیٰ بعد از انٹرویو اور حساس اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں تقرر و تبادلے کرنے کیلئے منظوری دیں تاکہ ایک سسٹم سے گزر کر ہر کوئی تعینات ہو، تبھی اچھے نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور کرائم پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے اور عوام کا اعتماد بھی حاصل کیا جا سکتا ہے جب میرٹ پر تعیناتیاں کی جائیں گی تو نوے فیصد مسائل از خود حل ہو جائیں گے۔