ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اکراس دی بورڈ فائر بندی، ڈرون مداخلت بند؛ ملٹری آپریشنز ڈی جیز کا اتفاق رائے

DG MOs Hotline contact, Ceasefire prevails , Pakistan India de escalation , City42
کیپشن:    پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کئی مرتبہ ہوئی، جنگ جیسی صورتحال بھی کئی مرتبہ بنی لیکن دانت توڑ کر ٹیبل پر لانے کا کام پہلی مرتبہ ہوا۔ ڈی جی ایم اوز کی یہ فون پر بات چیت کے لئے استعمال ہونے والی ہاٹ لائن تو وہی پرانی تھی لیکن بات چیت میں فریقین کی پوزیشن کچھ مختلف تھی۔ 

سٹی42:   پاکستان اور بھارت کے ملٹری آپریشنز کے ڈائیریکٹر جنرلز کا طے شدہ  ہاٹ لائن رابطہ آج شیدول سے کچھ تاخیر سے ہوا،  مختصر  بات چیت میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں افواج کے درمیان اب کوئی فائرنگ نہیں ہوگی، شہری آبادیوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے کوئی دراندازی نہیں کی جائے گی۔
 سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان سیز فائرکا اگلا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے رابطہ ہوا۔  ہاٹ لائن پر بات چیت کا پہلا راؤنڈ مکمل ہوگیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کی بات چیت میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں افواج کے درمیان اب کوئی فائرنگ نہیں ہوگی، شہری آبادیوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے کوئی دراندازی نہیں کی جائے گی۔

کئی روز سے پاکستان کی بربادی کی جھوٹی خبریں نشر کرنے مین ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے جنون میں مبتلا بھارت کا میڈیا آج صلح کی خبریں نشر کرنے میں ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے آگے نکلنے کے جنون میں مبتلا نظر آیا اور انڈیا کے میڈیا نے آج صبح ہی یہ فیک خبرین نشر کر دیں کہ ڈی جی ای او سطح کی میٹنگ ہو گئی ہے۔ یہ میٹنگ درحقیقت  آج شام کچھ دیر پہلے ہوئی ہے۔

پاکستان کے فیصلہ کن  معرکہِ حق کا پاکستان کی طرف سے اختتام  10 مئی کی صبح ہی ہو گیا تھا۔ دشمن نے اپنے زخموں کو صبر کے ساتھ چاٹنے  میں ہی عافیت تلاش کی اور امریکہ کے صدر کے زریعہ پاکستان کی قیادت کے صلح کا سفید جھنڈا دکھا دیا تھا۔ 

مریکا کی ثالثی میں بھارت اور پاکستان فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے تھے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اس سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر  سیز فائر کو حتمی شکل دینے کے لئے ریاستوں کے طریقہ کار کے مطابق پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے 12 مئی کو بات چیت کا بھی  شیدول طے کیا  گیا تھا۔