ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مغوی بازیابی کیس، لاہور ہائیکورٹ کا آئی جی پنجاب کو طلب کرنے کا عندیہ

مغوی بازیابی کیس، لاہور ہائیکورٹ کا آئی جی پنجاب کو طلب کرنے کا عندیہ
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں شہری کی عدم بازیابی کیس کی سماعت، آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد سمیت دیگر افسران پیش ، عدالت نے مغوی برآمد نہ ہونے پر آئی جی پولیس کو طلب کرنے کا عندیہ دے دیا ،جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ اگر مغوی بازیاب نہ ہوا تو پولیس قانون کے مطابق نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔

جسٹس  فاروق حیدر نے شہری علی حسن کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت  کی ، آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد، ڈی آئی جی لیگل ملک اویس احمد، ڈی پی او گجرات عمر فاروق اور ڈی پی او منڈی بہاؤالدین علی شیرازی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے مغوی کی عدم بازیابی کی صورت میں آئی جی پولیس پنجاب راؤ عبدالکریم کو طلب کرنے کا عندیہ دے دیا۔
کیس کی سماعت جسٹس فاروق حیدر نے شہری محمد عثمان کی درخواست پر کی۔ درخواست گزار نے 10 دسمبر 2024 کو علی حسن کی بازیابی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔دوران سماعت  جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے  کہ مغوی دو ہزار چوبیس سے لاپتہ ہے اور پولیس ابھی تک کچھ نہیں کر سکی۔ فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ وہ مغوی کی والدہ اور اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس فاروق حیدر نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر نوید چٹھہ سے استفسار کیا کہ کیا صورتحال ہے؟ اس پر لاء افسر نے بتایا کہ آئی جی اور آر پی او گوجرانولہ کی جانب سے رپورٹس جمع کروا دی گئی ہیں۔

عدالت نے آر پی او گوجرانوالہ سے  استفسار کیا کہ مغوی کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ آر پی او خرم شہزاد نے بتایا کہ مختلف مقامات سمیت پورے پاکستان میں تلاش جاری ہے۔  عبداللہ نامی شخص اس کیس میں اہم ہے جو اس وقت بیرون ملک موجود ہے۔ عبداللہ کو واپس لانے کے لیے ریڈ وارنٹ جاری ہو چکے ہیں اور ایک پولیس افسر آج دبئی روانہ ہو رہا ہے۔ آر پی او کے مطابق ملزم عبداللہ کی واپسی سے حقائق واضح ہو جائیں گے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مغوی کا موبائل فون پہلے روز سے بند ہے اور وہ اپنی بہن کی شادی میں بھی شریک نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزار پولیس سے مکمل تعاون نہیں کر رہا۔اس موقع پر مغوی کی والدہ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا سب سے چھوٹا تھا اور کریانہ کی دکان چلاتا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس ان کے سامنے ان کے بیٹے کو گھر سے لے کر گئی اور انہیں ہدایت کی گئی کہ شور نہ کریں ورنہ وہ واپس نہیں آئے گا۔

والدہ کے مطابق کسی شخص نے فون کر کے بیٹے کے مقام کے بارے میں اطلاع بھی دی تھی۔جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس 10 دسمبر 2024 سے زیر التوا ہے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ پولیس کے مطابق مغوی ایک اور مقدمے میں اشتہاری بھی ہے، تاہم ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جس وقوعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے اس سے قبل ہی مغوی کا موبائل سم بند تھاعدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ ایک عام شخص ہے تو پھر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پولیس اسے کیوں لے گئی۔ فاضل جج نے کہا کہ کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ اس نے خود کو غائب کیا ہو۔ اس پر لاء افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض افراد غیر قانونی طور پر بارڈر کراس کر جاتے ہیں اور بعض وہاں مارے بھی جاتے ہیں، لہٰذا ملزم عبداللہ کی بیرون ملک گرفتاری تک مہلت دی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

عدالت نے پولیس کو 25 فروری تک مغوی کی بازیابی کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئندہ سماعت تک مغوی برآمد نہ ہوا تو آئی جی پولیس پنجاب کو طلب کیا جائے گا۔ بعد ازاں کیس کی مزید سماعت 25 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

Ansa Awais

Content Writer