ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

خیبرپختونخوا امیر ہو گیا، اب وفاق کو قرضے دیاکرےگا

 خیبرپختونخوا امیر ہو گیا، اب وفاق کو قرضے دیاکرےگا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے  صوبہ خیبر پختونخوا میں غیبی ترقی ہونے کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا اور مزید حیران کرتے ہوئے بتایا کہ اب خیبر پختونخوا اتنی ترقی کر گیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کو قرضہ بھی دے سکتا ہے۔

 ڈیرہ اسما عیل خان میں میڈیا س کے مقامی نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے بتایا کہ ہمارا بجٹ ٹیکس فری بجٹ ہوگا۔  کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔  عوام کو ریلیف دیں گے۔ روزگار کے نئے مواقع فراہم کریں گے،علی امین نے کہا  روزگار کے پہلے جو پراجیکٹس چل رہے ہیں جن میں لوگوں کو بلاسود قرضہ دے کر اپنے پیروں پر کھڑا کررہے ہیں، اس پر بھی کام ہوگا ۔ ہم ہیومن ڈیولپمنٹ پر دوبارہ فوکس کررہے ہیں۔

 ہمارے صوبے کے جو ایسے پراجیکٹس جن سے معشیت بہتر ہوگی اور روزگار میں اضافہ ہوگا، ان پر فوکس کریں گے۔

علی امین نے کوئی تفصیل فراہم کئے بغیر مقامی میڈیا کو  بتایا کہ ہمارے "میگا پراجیکٹس"  میں تعلیم شامل ہے، تعلیمی ایمرجنسی لگائیں گے جس کے تحت سکول نہ جانے والے طلبہ کی تعداد کم کریں گے اور ساتھ ہی تعلیم کا معیار بھی بہتر کریں گے، صرف ڈگری دینا ہمارا مقصد نہیں ہے بلکہ اس ڈگری کی قدر بڑھانی ہے۔

 ہم صحت پر بھی فوکس کریں گے اور جن علاقوں میں صحت کی ضروریات کی کمی ہے اس کو فوری طور پر پورا کریں گے.

ہم ذراعت پر بھی فوکس کریں گے اور بجلی سے متعلق پراجیکٹس بھی شامل ہیں اور سوات اور دیگر موٹرویز پر بھی کام ہوگا۔

 پاکستان کے اس وقت جو معاشی حالات ہیں ان کو دیکھ کر تمام صوبوں کو  اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑے گا کیوں کہ مقروض قومیں کبھی بھی خود مختار اور خدار نہیں ہوسکتیں۔

 ایک سوال کے جواب میں علی امین نے دعویٰ کیا کہ شکر ہے ہمارا صوبہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا۔  وفاقی حکومت کی تو یہ حالت ہے کہ وہ ہم سے امداد مانگ رہی ہے اور ہم امداد دینے کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ اب تو ہم وفاق کوبھی قرضہ دے سکتے ہیں۔

علی امین نے وفاق کو قرضہ دینے کی بات کر کے ایک بار پھر وفاق سے مانگنا شروع کر دیا اور کہا، کہ این ایف سی بہت ضروری ہے جو 15 سال سے نہیں ہوئی  جس سے ہمارے ضم اضلاع کے پیسے ہمیں نہیں مل رہے، اب فیصلہ ہوا ہے کہ اگست میں این ایف سی ہوگی تو اس میں ہمارے صوبے کا آئینی حق ہمیں مل جائے گا اور اس سے ہمیں پیسے ملیں گے۔ 50 ارب تک کا قرضہ ہم نے پچھلے سال میں اتارا ہے اور ایک روپے بھی مزید قرضہ نہیں لیا ہے جب کہ اس وقت ہم نے اکاؤنٹ میں صرف قرض اتارنے کے لیے ڈیڑھ سو ارب روپے رکھے ہوئے ہیں۔

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لئے ہم دوبارہ پورے پاکستان میں تحریک شروع کریں گے۔