(ویب ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ نے’’ تامل ناڈو تروپرن کندرم دیپم‘‘ تنازع میں مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درگاہ میں روزانہ نماز پڑھنے پر پابندی اور عید پر قربانی کو روکنے کو درست قرار دیا ہے۔
بھارتی میڈیا ارپورٹس کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے پیر کے روز مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت تامل ناڈو کے ضلع مدورائی میں واقع تروپرن کندرم پہاڑی پر موجود درگاہ میں روزانہ نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح طور پر کہا کہ مسلمان اس مقام پر روزانہ نماز ادا کرنے کے مجاز نہیں ہیں اور مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو ایک ’’متوازن حکم‘‘ قرار دیا ہے۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی اس ہدایت کو بھی برقرار رکھا جس کے تحت درگاہ میں صرف رمضان اور بقرعید کے مواقع پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ احاطے میں جانوروں کی قربانی پر مکمل پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔یہ فیصلہ، امام حسین نام کے ایک ِشخص کی جانب سے دائر کی گئی اپیل پر سنایا گیا، جس میں مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ کیس طویل عرصے سے جاری تروپرن کندرم دیپم تنازع سے جڑا ہوا ہے، جہاں مختلف مذہبی برادریاں اس پہاڑی مقام کو مقدس تصور کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مداخلت سے انکار کے بعد، مدراس ہائی کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی تمام پابندیاں بدستور نافذ العمل رہیں گی۔یہ کیس دراصل مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم سے شروع ہوا تھا جس میں تروپرن کندرم پہاڑی پر دیپم (چراغ) جلانے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اس اجازت کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اور پولیس کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا۔
مدراس ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی، جس میں درخواست گزار راما روی کمار نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ کا حکم سول عدالت کے حتمی فیصلوں کے منافی ہے، جن میں واضح طور پر ارلمگو سبرامنیا سوامی مندر کی پہاڑی پر ملکیت اور کنٹرول کو تسلیم کیا گیا ہے۔راما روی کمار نے دعویٰ کیا کہ ہائی کورٹ نے مندر کے مذہبی حق کو تسلیم تو کیا، مگر اسے انتظامی اداروں کی اجازت سے مشروط کر کے اس حق کو کمزور کر دیا، جو کہ ایک غیر قانونی عدالتی مداخلت کے مترادف ہے۔درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ دیپم جلانا مندر کا داخلی مذہبی عمل ہے اور جب تک کوئی واضح قانون موجود نہ ہو، اسے کسی سرکاری ادارے کی اجازت سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے امتیازی سلوک کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ جہاں دوسری برادریوں کے ماننے والوں کو نیلی تھوپے علاقے تک رسائی اور مذہبی سرگرمیوں کی اجازت ہے، وہیں ہندوؤں کی عبادت کو پہاڑی کی چوٹی پر متعدد انتظامی پابندیوں میں جکڑ دیا گیا ہے، جس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔
واضح رہے کہ 23 جنوری کو سپریم کورٹ نے ایک علیحدہ عرضی پر مرکزی حکومت، تامل ناڈو حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا تھا، جس میں ASI کے مبینہ کنٹرول اور ڈیپاتھون (پتھریلا ستون) پر روزانہ چراغ جلانے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ یہ عرضی ہندو دھرم پریشد نامی تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔
تروپرن کندرم پہاڑی تامل ناڈو کا ایک قدیم اور حساس مذہبی مقام ہے، جہاں ہندوؤں، مسلمانوں اور دیگر برادریوں کے عقائد جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں واقع ارلمگو سبرامنیا سوامی مندر اور درگاہ کے درمیان مذہبی رسومات، ملکیت اور عبادت کے حقوق کو لے کر برسوں سے تنازع جاری ہے۔