ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرئیل کی مدد کرنے پر امریکا کی سابق رکن کانگریس کی حکومت اور مسیحی مذہبی قیادت پر شدید تنقید

فلسطینی بچوں کی ہلاکت پر خاموشی کا ’’حساب‘‘ دینا پڑیگا، مار جوری ٹیلر گرین نے خبردار کر دیا

اسرئیل کی مدد کرنے پر امریکا کی سابق رکن کانگریس کی حکومت اور مسیحی مذہبی قیادت پر شدید تنقید
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکا کی سابق رکن کانگریس مار جوری ٹیلر گرین نے اسرائیل کو مسلسل امریکی فوجی و مالی مدد دینے والے سیاسی لیڈروں اور غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں پر خاموش رہنے والی مسیحی مذہبی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور خبردار کیا کہ اس خاموشی کا ’’حساب‘‘ دینا پڑے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کی سابق رکن کانگریس مار جوری ٹیلر گرین نے غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے معاملے پر امریکی حکومت اور مسیحی مذہبی حلقوں کی خاموشی پر سخت سوال اٹھائے ہیں۔ مار جوری ٹیلر گرین نے ایکس پر کہا کہ ہزاروں  بچے ہلاک ہوچکے ہیں اور بہت سے زندگی بھر کے لیے زخمی، معذور یا یتیم ہوگئے ہیں، پھر بھی امریکہ کے منتخب حکومتی لیڈر رقم اور فوجی مدد بھیجتے رہتے ہیں۔ امریکی مسیحی چرچ بڑی حد تک خاموش ہے۔گرین نے مزید کہا اس دن، مجھے نہیں لگتا کہ یہ اچھی طرح ختم ہوگا۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’’اس دن‘‘ سے ان کی مراد کیا ہے، تاہم ان کے بیان کو مذہبی تناظر میں یومِ حساب یا قیامت کی طرف اشارہ سمجھا جارہا ہے۔ ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ غزہ میں بچوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور زندگی بھر کی معذوری کے باوجود امریکی سیاسی اور مذہبی قیادت اس معاملے پر وہ ردعمل نہیں دکھا رہی جو ان کے خیال میں دکھانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق گرین کی یہ تنقید ان کے سابق سیاسی موقف کے مقابلے میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ وہ 2021 سے امریکی ایوان نمائندگان کی رکن رہیں اور کئی برس تک ڈونالڈ ٹرمپ اور انکی ’’MAGA‘‘ سیاست کی نمایاں حامی سمجھی جاتی تھیں۔ تاہم 2025کے آخر میں ٹرمپ سے ان کے تعلقات میں شدید اختلاف پیدا ہوا اور انہوں نے5جنوری2026کو کانگریس سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے اختلافات میں اسرائیل کے لیے امریکی حمایت، خارجہ پالیسی، صحت عامہ اور دیگر معاملات بھی شامل تھے۔ غزہ کے معاملے پر گرین کا مؤقف وقت کے ساتھ مزید سخت ہوا ہے۔ ان کے کانگریس سے رخصت ہونے سے قبل ہی وہ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھا رہی تھیں اور ’’America First‘‘ کے نام پر بیرون ملک فوجی کارروائیوں اور اخراجات پر اعتراض کرتی رہی تھیں۔ انکی موجودہ تنقید بھی اسی وسیع تر مؤقف کا حصہ ہے جس میں وہ امریکی حکومت کو بیرون ملک جنگوں پر وسائل خرچ کرنے کے بجائے ملکی مسائل پر توجہ دینے کی وکالت کرتی ہیں۔

سابق رکن کانگریس مار جوری ٹیلر گرین  کا تازہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں فلسطینیوں کی ہلاکتیں جاری ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 10اکتوبر2025 کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 1344 فلسطینی ہلاک او 4464زخمی ہوچکے ہیں۔ مجموعی طور پر اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں فلسطینی حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 73500سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 1،7400 سے زیادہ ہے۔ 

غزہ میں جاری صورتحال پر امریکی انتظامیہ کے اندر بھی اختلاف کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ امریکی خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے6 ستمبر کو غزہ کے معاملے میں اسرائیلی حکومت کو اندرونی سیاسی دباؤ کے باعث ’’تھوڑا غیر معقول‘‘ قرار دیا اور کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر واشنگٹن کو تشویش ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب اسرائیلی حملوں میں فلسطینی شہریوں، بشمول بچوں، کی ہلاکتیں جاری تھیں۔ گرین اب کانگریس کی رکن نہیں ہیں، لیکن ان کا بیان امریکی دائیں بازو کے اندر اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر بڑھتی بحث کی ایک مثال ہے۔

ایس ایم عتیق شاہ بخاری سٹی نیوز نیٹ ورک سے وابستہ سینئر صحافی ہیں جو صحافت کی دنیا میں 25 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔