ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر بہت وقت ضائع ہو چکا، اب امریکا کو اپنا کام کرنا ہوگا، جبکہ ان کے بقول ایران کے ساتھ ہونے والا مفاہمتی معاہدہ (ایم او یو) اب ختم ہو چکا ہے۔
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے گزشتہ رات ایران کے انتہائی خطرناک عناصر کو بھرپور طاقت سے نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ایسے عناصر موجود ہیں جن سے سختی سے نمٹنا ضروری تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کوئی نئی ڈیل نہیں کرنا چاہتے، تاہم اگر مذاکرات کار چاہیں تو ایران سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کے حوالے سے امریکا کا مؤقف واضح ہے اور ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی فوج اور بحریہ کو ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ ایران نے ماضی میں سعودی عرب، قطر اور امریکی مفادات کو نشانہ بنایا اور ہزاروں امریکی فوجیوں کی جانیں لیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا، تاہم انہوں نے ترک قیادت کو ایسا نہ کرنے پر آمادہ کیا۔ ٹرمپ نے چین کے رویے کو بھی مثبت قرار دیا۔
امریکی صدر نے نیٹو پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے پر اتحادیوں نے امریکا کی مدد نہیں کی۔ انہوں نے اسپین کو نیٹو کا "بدترین شراکت دار" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خزانہ کو اسپین کے ساتھ تجارتی روابط ختم کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت دی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے اور نیٹو میں امریکا کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ ایران کے معاملے پر وہ صدر ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ گرین لینڈ سے متعلق معاہدے پر مرحلہ وار عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران سے متعلق حالیہ بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔