ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پیکا قانون بناتے وقت مشاورت کا فقدان اسکی بڑی خامی ہے ،گورنر پنجاب

 پیکا قانون بناتے وقت مشاورت کا فقدان اسکی بڑی خامی ہے ،گورنر پنجاب
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ بات چیت کے ذریعے نکلنے والے راستے ہی ملک و قوم کی بہتری کا باعث بنتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ چاہے پیکا قانون ہو یا کوئی اور معاملہ، اختلافات کا حل صرف مذاکرات اور مشاورت میں ہی پوشیدہ ہے۔ پیکا قانون بناتے وقت مشاورت کا فقدان اس کی سب سے بڑی خامی ہے۔

 لاہور پریس کلب میں جرنلسٹس کنونشن کے دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے عمل میں حکومتوں کی خامیاں اور کمزوریاں موجود رہی ہیں۔ پیکا قانون بناتے وقت مشاورت کا فقدان اس کی سب سے بڑی خامی ہے  اگر تمام سٹیک ہولڈرز سے بات چیت کر کے قانون بنایا جاتا تو نتائج زیادہ بہتر ہو سکتے تھے۔ ٹیکس قوانین میں بھی متعدد خامیاں پائی جاتی ہیں  جبکہ کاروباری طبقہ ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے مگر ان سے مؤثر مشاورت نہیں کی جاتی،انہوں نے زور دیا کہ قوانین سے متعلق مسائل کا حل حکومت اور سیاستدانوں کو مل کر نکالنا ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ میڈیا کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ضرور تھی  تاہم اس میں بھی مشاورت کا عمل ناگزیر ہے، سردار سلیم حیدر خان نے بتایا کہ وہ ایک طویل جدوجہد کے بعد اس عہدے تک پہنچے ہیں اور مشرف دور میں اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ احتجاج میں بھی شریک رہے۔ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جاتے ہیں اور ان کا کوئی مؤثر احتساب نہیں ہوتا۔

  انہوں نے کہا کہ یہ پیپلزپارٹی  نے کبھی انتقامی سیاست نہیں کی، پیپلز پارٹی کے دور میں میڈیا پر کبھی پابندی نہیں لگائی گئی، حالانکہ اس وقت میڈیا کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ حکومت کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ صحافت میں بھی تمام افراد ایک جیسے نہیں ہوتے اور ان کی رائے میں پیکا قانون پر تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت ہونی چاہیے۔

 گورنر پنجاب نے کہا کہ ملک میں سفید پوش طبقے کے لیے عزت کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جبکہ وہ ایسے پاکستان کے خواہاں ہیں جہاں امن اس قدر ہو کہ کسی کو پروٹوکول لینے کی ضرورت نہ پڑے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاستدان کرپٹ نہیں ہوتے، اور سیاستدانوں کا احتساب عوام ووٹ کے ذریعے کرتے ہیں، جبکہ دیگر ادارے بھی ان کا احتساب کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صرف سیاستدان ہی ایسے ہیں جن کا باقاعدہ احتساب ہوتا ہے، جبکہ بعض طاقتور طبقات احتساب سے بالاتر دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیا ورکرز کو آٹھ آٹھ ماہ تک تنخواہوں سے محروم رہنا پڑتا ہے۔