امریکہ میں امریکہ کو پھر سے دولت مند بنانے کے لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگرنٹس کے خلاف جنگ میں نئی بے مثل بے ہودگی اس وقت سامنے آئی جب لاس اینجلس میں پولیس نے بے یار و مددگار امیگرنٹس کو پکڑنے کے لئے "ملٹری آپریشن" دکھائی دینے والی کارروائیاں کیں۔
میڈیا میں رپورٹ ہونے والی معلومات کے مطابق لاس اینجلس میں جمعہ کے روز ریاستہائے متحدہ امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی طرف سے امیگریشن کے سلسلے میں چھاپوں کا ایک سلسلہ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان گرفتاریوں اور "ملٹری آپریشن" کی طرز کی خوف پھیلانے والی سرگرمیوں نے بڑے پیمانے پر مظاہروں کو بھڑکا دیا ہے۔
امیگرنٹس کی پکڑ دھکڑ کے لئے چھاپے، جو کہ ایک فوجی طرز کی کارروائی کی طرح کیے گئے تھے، نے وفاقی امیگریشن حکام کی جانب سے استعمال کی جانے والی طاقت اور "غیر دستاویزی افراد" کے حقوق کے بارے میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایل اے میں کیا ہوا؟
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE)، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS)، فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (FBI) اور ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (DEA) کے وفاقی ایجنٹوں نے جمعہ کی صبح لاس اینجلس میں "امیگریشن انفورسمنٹ آپریشنز" کا ایک سلسلہ چلایا۔
ان کارروائیوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے براہ راست حکم کے ماتحت کئی ایجنسیوں کی فورسز نے بکتر بند گاڑیوں، بھاری ہتھیاروں اور ساز و سامان کے ساتھ فوجی انداز میں چھاپے مارے، پوری پوری آبادیوں کو گھیرے میں لیا، ایک ایک امیگرنٹ کو پکڑنے کے لئے درجنوں اہلکاروں نے اسے گھیرا۔
ان غیر معمولی تشدد آمیز کارروائیوں نے لاس اینجلس شہر میں فوراً ردعمل کو جنم دیا، سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے فیدرل کورٹس کی طرف مارچ کیا۔
وارنٹ کے بغیر گرفتاریاں
"امیگریشن کی خلاف ورزیوں اور جعلی دستاویزات کے استعمال" کے سہارے امریکہ میں مقیم ہونے کے شبہ میں بہت سے افراد کو گرفتار کیا گیا۔ متعدد قانونی مبصرین کے مطابق اور امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) نے تصدیق کی ہے کہ گرفتاریاں عدالتی وارنٹ کے بغیر کی گئیں۔
لاس اینجلس میں احتجاج کا آغاز
لاس اینجلس پولیس ڈیپارٹمنٹ (LAPD)، جس نے چھاپوں میں حصہ نہیں لیا تھا، اس فورس کو چھاپوں کے نتیجے میں ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے بلایا گیا۔
یہ چھاپے ٹرمپ انتظامیہ کی تیز تر اینٹی امیگریشن پالیسیوں کے تحت ایک وسیع تر اقدام کا حصہ تھے۔
کن کن علاقوں میں چھاپے مارے گئے
چھاپوں کا مرکز لاس اینجلس کے مرکز اور اس کے آس پاس کے کئی مقامات تھے۔ ان علاقوں کو لاس اینجلس میں تارکین وطن کی زیادہ آبادی اور محنت کشوں کو زیادہ کام دینے والی صنعتوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
کیلی فورنیا پر محیط کولیشن آف ہیومن امیگرنٹ رائٹس (CHIRLA) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انجلیکا سالاس نے کہا کہ وکلاء نے سات مقامات پر گرفتاریوں کی سرگرمیاں ریکارڈ کیں۔ اس میں لاس اینجلس کے ویسٹ لیک ڈسٹرکٹ میں دو ہوم ڈپو اسٹورز، ایک ڈونٹ شاپ اور کپڑوں کی تھوک فروش، ایمبیئنس اپیرل شہر لاس اینجلس کے فیشن ڈسٹرکٹ میں شامل تھے۔
جن دیگر مقامات پر چھاپے مارے گئے ان میں 15ویں اسٹریٹ اور جنوبی لاس اینجلس میں سانتا فی ایونیو کے قریب دیہاڑی دار مراکز اور ایک دیگر ایمبیئنس سہولت شامل ہے۔
کتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا؟
ICE اور ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز (HSI) نے امیگریشن سے متعلق جرائم کے لیے 44 افراد کی "انتظامی گرفتاری" کی اطلاع دی۔
ایک انتظامی گرفتاری، مجرمانہ گرفتاری کے برعکس، شہری امیگریشن کی خلاف ورزیوں جیسے کہ ویزا سے زائد قیام یا قانونی حیثیت کی کمی کے لیے حراست میں لیا جانا ممکن ہے، اور اس کے لیے مجرمانہ الزامات کی ضرورت نہیں ہے۔ ان گرفتاریوں کے نتیجے میں حراست، ملک بدری، دوبارہ داخلے پر عارضی پابندی اور مستقبل کی امیگریشن کی درخواستوں سے انکار ہو سکتا ہے۔
تاہم، وکلاء کا خیال ہے کہ گرفتاریوں کی تعداد زیادہ ہے۔ نیشنل ڈے لیبر آرگنائزنگ نیٹ ورک کے کالیب سوٹو نے الجزیرہ کو بتایا کہ 70 سے 80 کے درمیان لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا، لیکن صرف تین وکلاء کو حراستی مرکز تک رسائی کی اجازت دی گئی تھی جہاں انہیں قانونی مشورہ دینے کے لیے رکھا گیا تھا۔
امیگرنٹس کے ٹرمپی شکار پر لاس اینجلس کا کیا ردعمل ہے؟
کیلی فورنیا سٹیٹ اور لانس اینجلس شہر کے مقامی اور ریاستی عہدیداروں نے ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کی وفاقی فورسز کے لاس اینجلس میں دہشت پھیلانے والے چھاپوں اور ان کارروائیوں کے کئے جانے کے انداز کی مذمت کی ہے۔
لاس اینجلس کی خاتون مئیر ان حرکتوں کی مخالفت اور مذمت کرنے میں سب سے آگے ہیں۔
ایکٹوسٹوں نے احتجاج کے دوران کہا کہ آج ہماری کمیونٹی پر حملہ کیا گیا ہے، ہم اندر اٹیک ہیں۔
ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے؛ لاس اینجلس کے مئیر کااعلان
لاس اینجلس کی خاتون مئیر کیرن باس نے اپنے شہر میں وفاقی فورسز کی جانب سے امیگرنٹس کی گرفتاریوں کے لئے اس آپریشن پر شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا کہ امیگرنٹس کے پراؤڈ شہر کی مئیر کی حیثیت سے میں اس صورتحال پر سخت غصے میں ہوں۔

یہ اقدامات ہمارے شہر میں دہشت بو رہے ہیں اور ان اقدامات سے ہمارے شہر میں سیفٹی کے بنیادی اصول سے بھی متصادم ہے۔

مئیر کیرن باس نے لکھا کہ میں امیگرنٹس کے لئے کام کرنے والی کمیونٹی آرگنائزیشنز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوں۔ ہم اس کی حمایت نہین کریں گے۔
گورنر گیون نے آپریشن کو ظالمانہ قرار دے دیا
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے آج ہونے والی فوجی انداز کی فیڈرل ایجنسیوں کی کارروائیوں کے خلاف ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے ان کارروائیوں کو "ظالمانہ" اور "افراتفری" قرار دیا، اور مزید کہا کہ یہ "من مانی گرفتاری کے کوٹے کو پورا کرنے کی کوشش" ہیں۔
لاس اینجلس سٹی کونسل کے تمام ارکان کا مذمتی بیان
لاس اینجلس سٹی کونسل کے تمام 15 ارکان نے چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ اہلکاروں نے ان اقدامات کا دفاع کیا اور مقامی رہنماؤں کو پیچھے دھکیلنے پر تنقید کی۔ مثال کے طور پر وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے مشورہ دیا کہ میئر کیرن باس وفاقی قانون کو کمزور کر رہی ہیں۔
لاس اینجلس ہی کیوں
لاس اینجلس کیلی فورنیا سٹیٹ کا مرکزی شہر، ایسے امیگرنٹس کا شہر ہے جن کے پاس وفاقی حکومت کی موجودہ امیگریشن پالیسی کو مطمئین کرنے کے لئے درکار دستاویزات کسی نہ کسی وجہ سے پوری نہیں ہیں۔ اس شہر میں مئیر ڈیموکریٹ ہے اور سٹیٹ کا گورنر بھی ڈیموکریٹ ہے۔
اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی امیگریشن پالیسیوں کے نفاذ کے لئے لاس اینجلس کو تجربہ گاہ بنا رکھا ہے جس کا ایک اظہار آج بہت بڑے طاقت کے مظاہرے سے کیا گیا۔
طاقت کا یہ مظاہر امیگرنٹس کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام اور ڈیموکریٹ حکومت کے لئے بھی خطرناک چیلنج ہے۔