(ویب ڈیسک)پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے پورٹ آف اسپین میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر 2 میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی اور بالآخر غیر ملکی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل شکستوں کا سلسلہ ختم کر دیا۔ اس سے قبل پاکستان بیرون ملک مسلسل 8 ٹیسٹ میچ ہار چکا تھا۔ پاکستانی ٹیم کرکٹ چمپئن شپ2025-27کے پوائنٹس ٹیبل پر آٹھویں مقام پر آ گئی ہے۔
پاکستانی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ چمپئن شپ2025-27کے پوائنٹس ٹیبل میں ملا، جہاں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آٹھویں مقام پر قبضہ کر لیا۔ یہ جولائی 2023 کے بعد پاکستان کی بیرون ملک پہلی ٹیسٹ فتح ہے۔ اس کامیابی سے پہلے پاکستان پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نچلے مقام پر تھا۔ پورٹ آف اسپین ٹیسٹ جیتتے ہی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو نویں نمبر پر دھکیل دیا۔پاکستان کا پوائنٹس تناسب 22.22 ہو گیا ہے۔ اگرچہ پاکستان اب بھی سرفہرست ٹیموں سے کافی پیچھے ہے، لیکن یہ فتح اسکی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ مہم کو زندہ رکھنے کیلے نہایت اہم ہے۔ آسٹریلیا 87.50 فیصد پوائنٹس کیساتھ مضبوطی سے پہلے نمبر پر ، اس کے بعد جنوبی افریقہ 75.00 فیصد پوائنٹس کیساتھ دوسرے اور نیوزی لینڈ 72.22 فیصد پوائنٹس کے ساتھ تیسرے مقام پر ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش 58.33 فیصد پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں چوتھے نمبر پر موجود ہے، جبکہ بھارتی ٹیم 48.15 فیصد پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ سری لنکا 41.67 فیصد پوائنٹس کے ساتھ چھٹے اور انگلینڈ 24.36 فیصد پوائنٹس کے ساتھ ساتویں مقام پر ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ بحث محمد عباس کو ٹیم سے باہر رکھنے کے فیصلے پر ہوئی۔ پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 5 وکٹیں لینے والے تجربہ کار تیز گیند باز کو باہر بٹھا کر پاکستانی کپتان بابر اعظم نے ایک اضافی اسپنر کھلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ میچ ختم ہونے کے بعد بابر اعظم نے بتایا کہ یہ حکمت عملی پچ کو دیکھ کر تیار کی گئی تھی۔ بابر نے کہا کہ پچ بالکل پاکستان جیسی لگ رہی تھی۔ اسلئےہم نے ایک اضافی اسپنر کھلایا۔ اس کے لئے ہمیں ایک سینئر کھلاڑی (محمد عباس) کو باہر رکھنا پڑا، لیکن ہماری منصوبہ بندی مکمل طور پر کامیاب رہی۔پاکستان کے اسپنرز ساجد خان اور علی عثمان نے 4-4 وکٹیں حاصل کیں۔اس میچ کی سب سے دلچسپ بات یہ رہی کہ پہلی اننگز میں شاندار ناقابل شکست سنچری بنانے والے عبداللہ شفیق کو ’پلیئر آف دی میچ‘ منتخب کیا گیا۔ مڈل آرڈر بیٹسمین اسد شفیق اصل پاکستانی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بھی نہیں تھے۔ انہیں آخری وقت میں ایک زخمی کھلاڑی کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا، اور انہوں نے میچ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔