ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت نے ایک اور سیلاب بھیج دیا، نو ضلعوں کو شدید خطرہ

 City42, Satluj river flood, Harike dam, Indus River Treaty
کیپشن: ستلج دریا میں پانی کی بہت بڑی مقدار چھورنے کے بعد بھارت نے ایک ابر پھر سندھ طاس معاہدہ کے کمیونیکیشن چینل کو انڈر مائن کیا اور پاکستان کو سفارتی ذریعہ سے بعد از وقت بتایا کہ ستلج دریا مین ایک اور بڑٓ سیلاب بھیج دیا ہے۔ ستلج مین پانی کی سطح پاکستان کو اطلاع ملنے سے پہلے ہی بہت زیادہ برھ چکی ہے۔

سٹی42:  پڑوسی ملک بھارت نے پاکستان کیلئے دریائے ستلج میں اونچے درجے کے ایک اور سیلاب کا بندوبست کر کے پاکستان کو سیلاب کے خطرے سے آگاہ کردیا۔

بھارت نے اس مرتبہ بھی سندھ طاس معاہدہ کے طے شدہ کمیونیکیشن چینل کو بائی پاس کیا اور اپنے کئے دھرے کی بعد از وقت اطلاع  اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ذریعہ دی۔ 

اسلام آباد میں پاکستان کی وزارت آبی وسائل نے بتایاکہ دریائے ستلج میں ہریکے زیریں اور فیروزپور زیریں پر اونچے درجے کا سیلاب ہوگا۔ دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ یکم ستمبر صبح 8 بجے سے آغاز ہو چکاہے۔

وزارت آبی وسائل  کے حکام نے آج پیرکی شام بتایا کہ ستلیج دریا میں نئے سیلاب کا الرٹ متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومتوں کو جاری کردیا گیا ہے۔ 

Caption as گوگل کے مہیا کردہ اس نقشہ میں ہری کے سے چھوڑے گئے پانی کا ممکنہ اثر دکھایا گیا ہے۔

ستلج میں سیلاب؛ پی ڈی ایم اے کا الرٹ

پروونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب  نے ستلج دریا میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کردی ہے اور 9 اضلاع میں ہائی الرٹ کردیا۔

پی ڈی ایم اے کے الرٹ میں بتایا گیا کہ بھارت کی طرف دریائےستلج میں "ہری کے" اور فیروزپور  کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ستلج کے اس نئے سیلابی ریلے سے پنجاب میں 9 اضلاع کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے ان اضلاع میں قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر اور پاکتن، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفر گڑھ شامل ہیں۔

پی ڈی ایم اے نے ہدایت کی کہ متعلقہ اضلاع کے ڈی سیزممکنہ سیلاب سے نمٹنےکیلیے فوری انتظامات کریں۔

Caption پاکستان اپنے ہاں آنے والی برسات کو تو کلائمیٹ چینج کا شاخسانہ قرار دے سکتا ہے لیکن اس برسات کا بیشتر حصہ گزرنے کے بعد چار بڑے دریاؤں ستلج، راوی، چناب اور جہلم میں آنے والے سیلاب بھارت سے اچانک بھاری مقدار میں چھوڑے جا رہے پانی کے ریلوں کا نتیجہ ہیں۔