ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

رفح میں خوراک تقسیم کرنے کے کیمپ پر فائرنگ سے  39 افراد جاں بحق

رفح میں خوراک تقسیم کرنے کے کیمپ پر فائرنگ سے  39 افراد جاں بحق
کیپشن: Gaza, Rafah shooting incident, IDF, BBC, Aljazeera News, City42, AFP report , Hamas Israel war
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  غزہ  میں اسرائیل اور حماس کی جنگ کے دوران آج صبح   جنوبی سرحدی قصبہ رفح میں خوراک کی تقسیم کے کیمپ  پر فائرنگ سے بہت سے فلسطینی مارے گئے۔ الجزیرہ نیوز بتا رہا ہے کہ آج رفح میں فائرنگ سے مرنے والوں کی تعداد برھ کر  39 ہو گئی ہے۔ 

اسرائیل کی فوج پر  رفح میں  خوراک کی تقسیم کے ایک کیمپ کے نزدیک جمع افراد پر فائرنگ کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے لیکن اسرائیل کی فوج اب تک رفح میں اپنی  طرف سے کسی فائرنگ کے واقعہ سے لاعلمی ظاہر کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر زخمیوں اور لاشوں کو گدھا گاڑیوں پر ہسپتال منتقل کئے جانے کے منظر کی ویڈیوز پھیلی ہوئی ہیں۔ تاہم زخمیوں کو منتقل کرنے کے لئے ایمبولینسوں کو بھی واقعہ کے کچھ دیر بعد اس جگہ پر موجود دیکھا گیا۔

فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح  ساڑھے چار بجے (پاکستان ٹائم  6:30 am) ہوا۔ 

رفح میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ
الجزیرہ عربی  نے فلسطینی میڈیکل ریلیف سوسائٹی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ رفح شہر کے مغرب میں جی ایچ ایف کے امدادی مقام کے قریب حملے میں کم از کم 39 فلسطینی ہلاک اور 220 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

 الجزیرہ،  بی بی سی اور دیگر انٹرنیشنل میڈیا آؤٹ لیٹس نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ ’ہزاروں فلسطینی خوراک حاصل کرنے کے لیے جمع تھے کہ اچانک  فائرنگ شروع  ہو گئی‘

اژانس فرانس پریس نے مرنے والوں کی تعداد آج صبح ابتدائی رپورٹ میں دس بتائی تھی۔
ریڈ کراس کے فیلڈ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وہاں 15 افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا اور 50 زخمیوں کو لایا گیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو خان یونس کے ناصر ہسپتال منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
حماس کے شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ " اسرائیلی ٹینکوں سے فائرنگ کے نتیجے میں ’کم از کم 10 فلسطینی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے‘۔"  ان  کے مطابق  فائرنگ اس وقت کی گئی جب ہزاروں فلسطینی امداد کے حصول کے لیے وہاں موجود تھے۔
یہ واقعہ رفح میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کی شدت کو مزید واضح کرتا ہے جہاں اسرائیل اور حماس کی جنگ نے امداد، طبی سہولیات اور نقل و حرکت کو ناممکن بنا دیا ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق سنیچر کے روز غزہ میں بھوک، خوف اور مایوسی کے عالم میں شہری بڑی تعداد میں امدادی ٹرکوں پر ٹوٹ پڑے، جس سے افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گئی۔

فائرنگ کا یہ المناک واقعہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے بنائے ہوئے کچھ کیمپوں میں سے رفح میں بنے ایک کیمپ پر ہوا ہے۔

غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن ایک نیا ادارہ ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی  مدد سے قائم کیا گیا ہے اور غزہ بھر میں مخصوص مقامات پر خوراک تقسیم کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ اسرائیل کی جانب سے حماس پر انترنیشنل کمیونٹی کی بھیجی ہوئی خوراک اور امدادی سامان بڑے پیمانہ پر چوری کر کے چھپا لینےکے مسلسل الزامات کے بعد اور غزہ مین آنے والی خوراک کی ترسیل کئی ہفتے تک روکنے کے بعد  شروع کیا گیا۔
غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ اس نے اس ہفتے دو ملین کھانے تقسیم کیے ہیں۔ تین روز پہلے اس ادارہ کے ایک کیمپ میں کھانا حاصل کرنے والوں پر فائرنگ اور کچلے جانے سے چار افراد مارے گئے تھے۔ اسرائیل نے حماس کے مسلح کارکنوں پر فائرنگ کا الزام لگایا تھا، اس واقعہ کے وقت اسرائیل کی فوج اس  کیمپ کے نزدیک موجود نہیں تھی۔ آج کے واقعہ کے متعلق اب  تک اطلاعات یہ ہیں کہ فائرنگ کی گئی اور ٹینکوں سے بھی گولے برسائے گئے۔ لیکن اب تک فائرنگ اور گولے برسائے جانے کا کوئی بصری ثبوت کسی ویڈیو کی شکل میں سامنے نہیں، صرف زخمیوں اور لاشوں کو ٹرانسپورٹ کرنے  کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام امریکی امداد سے چلنے والے مرکز کے نزدیک اپنے فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والے زخمیوں کے بارے میں سے ہونے والے زخمیوں کے بارے میں فی الحال لاعلم ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

بی بی سی اور الجزیرہ کی  رپورٹیں
 بی بی سی نے حساس معاملات کی رپورٹنگ کے سٹینڈرڈ طریقہ کے برعکس ایک مقامی صحافی کے اس بیان پر مبنی رپورٹ شائع کی کہ" ٹینکوں نے فائرنگ کی" جس سے 26 فلسطینی ہلاک ہوئے۔  بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں لکھا،  ’ہزاروں فلسطینی خوراک حاصل کرنے کے لیے جمع تھے کہ اچانک اسرائیلی ٹینکوں نے فائرنگ شروع کر دی۔‘

بی بی سی نے کہا ہے کہ "رفح میں اسرائیلی ٹینکوں کی گولہ باری اور براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں امدادی مرکز کے قریب کم از کم 26 فلسطینی ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔"

اسرائیل کی فوج آئی ڈی ایف نے  رفح میں فائرنگ کے کسی واقعہ کے متعلق لاعلمی ظاہر کی ہے۔

الجزیرہ نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ۔۔۔  اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ رفح امدادی مقام پر ہونے والے ہلاکت خیز واقعے سے لاعلم ہے۔ الجزیرہ کے مطابق
اسرائیلی فوج نے انگریزی میں ٹیلی گرام پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ "اسے فی الحال انسانی امداد کی تقسیم کے مقام کے اندر [اسرائیلی فوجیوں] کی فائرنگ سے ہونے والے زخموں کے بارے میں علم نہیں ہے" اور یہ کہ واقعہ کا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔


رفح میں موجود مقامی صحافی محمد غریب نے بی بی سی کو بتایا کہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام امریکی امداد سے چلنے والے مرکز کے نزدیک ہزاروں فلسطینی خوراک حاصل کرنے کے لیے جمع تھے کہ اچانک اسرائیلی ٹینک نمودار ہوئے اور ہجوم پر فائرنگ شروع کر دی۔
بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں محمد غریب کے دعوے کے فوراً بعد بتایا کہ مقامی صحافیوں اور امدادی کارکنوں نے ان  مناظر کی ویڈیوز شیئر کی ہیں جن میں زخمیوں اور لاشوں کو گدھا گاڑیوں پر رکھ کر رفح کے الماواسی علاقے میں ریڈ کراس کے عارضی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ ؛ہلم بی بی سی نے یہ نہین بتایا کہ  محمد غریب نے جس ٹینکوں کے حملے کا دعویٰ کیا ان ٹینکوں کے حملے ک یبھی کوئی ویڈیو ہے یا نہیں۔ کیونکہ اب تک ایسی کوئی ویڈیو کہیں سامنے نہیں آئیْ
بی بی سی نے اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) سے واقعے پر مؤقف کے لیے رابطہ کرنے کا ذکر کیا لیکن وہ موقف اپنی رپورٹ میں شامل نہیں کیا نہ ہی سوشل پلیٹ فارمز پر موجود آئی ڈی ایف کے دعوے کا ذکر کیا کہ وہ واقعہ سے لاعلم ہیں۔

یہ ایک ڈیویلپنگ سٹوری ہے، جس کی تفصیلات مسلسل آ رہی ہیں۔