ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت محکمہ زراعت کا اجلاس، 9 لاکھ کسان کارڈ جاری، 50 ہزار ٹریکٹرز کی تقسیم کا ہدف

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت محکمہ زراعت کا اجلاس، 9 لاکھ کسان کارڈ جاری، 50 ہزار ٹریکٹرز کی تقسیم کا ہدف
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

راؤ دلشاد:مریم نواز کی زیر صدارت محکمہ زراعت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کسان کارڈ، زرعی میکنائزیشن اور کسانوں کی فلاح سے متعلق مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں اب تک 9 لاکھ کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ کسانوں کو 360 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق وزیراعلیٰ کسان کارڈ کے تحت جاری کیے گئے قرضوں کی ریکوری کی شرح 99 فیصد رہی، جبکہ قرضوں کا 80 فیصد حصہ کسانوں نے کھادوں کی خریداری پر خرچ کیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں تین مراحل کے دوران 34 ہزار گرین ٹریکٹرز تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تین سال کے دوران 50 ہزار ٹریکٹرز کسانوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریکٹروں کی تقسیم کے پورے عمل کو انسانی مداخلت سے پاک کرتے ہوئے مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے، جبکہ حکومت نئے فیلڈ سروے کے ذریعے 12 ہزار 650 ٹریکٹروں کی جسمانی تصدیق بھی مکمل کر چکی ہے۔

زرعی ترقی کے حوالے سے اجلاس میں بتایا گیا کہ 3 ہزار ایگری گریجویٹس کو انٹرن شپ پروگرام میں شامل کیا گیا، جنہوں نے صوبے کی 12 ملین ایکڑ اراضی پر کسانوں کو زرعی توسیعی خدمات فراہم کیں۔ بریفنگ کے مطابق انٹرن شپ مکمل کرنے والے 30 فیصد گریجویٹس مستقل ملازمت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں ان کی جاب پلیسمنٹ کی شرح 50 فیصد رہی۔ اجلاس میں پروگرام کے اگلے مرحلے میں مزید 1500 ایگری گریجویٹس کو شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اجلاس میں صوبے بھر میں جدید سہولیات سے آراستہ 10 نئے "ماڈل ایگری مالز" کے قیام کی منظوری دی گئی۔ حکام نے منصوبے کا ڈیزائن، تصویری شواہد اور ماڈل بھی پیش کیے، جنہیں اجلاس نے منظور کر لیا۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ زرعی میکنائزیشن پروگرام کے تحت اب تک 280 جدید زرعی مشینیں کاشتکاروں کو فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ جون 2027 تک مجموعی طور پر 2 ہزار جدید زرعی مشینیں کسانوں کے حوالے کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔