اشرف خان: وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں متعدد اہم فیصلے کر لیے ہیں، جن کے تحت سولر پینلز اور کھاد پر ٹیکس نہ بڑھانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے سولر پینلز پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے موجودہ شرح برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح زرعی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کھاد پر بھی ٹیکس نہ بڑھانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تاہم تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس میں کتنی کمی کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کے بعد کیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومت نے محصولات میں اضافے کے لیے بعض درآمدی اشیاء پر انکم ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق متعدد درآمدی اشیاء پر انکم ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے بڑھا کر دو فیصد کرنے کی تجویز تیار کی گئی ہے۔
اسی طرح بعض دیگر درآمدی اشیاء پر انکم ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد سے بڑھا کر 5.5 فیصد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور مالیاتی اہداف کا حصول ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دینے کا عمل جاری ہے اور آئندہ چند روز میں مختلف شعبوں سے متعلق مزید اہم فیصلے سامنے آنے کا امکان ہے۔