ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران نے تین غیر اعلان کردہ مقامات پر خفیہ جوہری سرگرمیاں کیں، آئی اے ای اے

IAEA, Iran's Nuclear Program, City42 , Iran's undeclared nuclear facilities
کیپشن:  ایران کی  صدارتی سرکاری ویب سائٹ کی طرف سے جاری کردہ فائل ہینڈ آؤٹ تصویر میں   ایران کے سابق  صدر محمود احمدی نژاد 8 مارچ 2007 کو وسطی ایران میں نتنز جوہری پلانٹ کا معائنہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔  ایران کے ایٹمی پروگرام کو لے کر ایک تنازعہ عرصہ سے چل رہا ہے جس کے دوران  2015 میں ایک انٹرنیشنل معاہدہ بھی ہو گیا تھا جو بعد مین برقرار  نہیں رہا۔ اب امریکہ اور ایران ایک نئے معاہدہ کے لئے مذاکرات کر رہے ہیں جس کے دوران آئی اے ای اے کی یہ چونکا دینے والی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ ایران یورینئیم افزودگی کم کرنے کی بجائے بڑھا رہا ہے۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  آئی اے ای اے کی نئی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ایران نے تین غیر اعلان کردہ مقامات پر خفیہ جوہری سرگرمیاں کیں۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی سہ ماہی رپورٹ کو دیکھنے والی انٹرنیشنل نیوز ایجنسیوں کی آج سامنے آنے والی  رپورٹس کے مطابق ایران نے  گزشتہ دنوں تین مقامات پر خفیہ جوہری سرگرمیاں انجام دی تھیں جن سے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کو آگاہ  نہیں کیا گیا تھا۔  یو این واچ ڈاگ نے اپنے رکن ممالک کو بھیجی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں بتایا  کہ ایران کی یہ ان ڈیکلئیرڈ  نیوکلئیر تنصیبات طویل عرصے سے زیرِ تفتیش ہیں۔

Caption  بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی، مرکز، تہران، ایران میں 17 اپریل 2025 کو ایران کی جوہری کامیابیوں کی نمائش کا دورہ کر رہے ہیں۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے نتیجہ اخذ کیا کہ "یہ تین مقامات، اور دیگر ممکنہ متعلقہ مقامات، 2000 کی دہائی کے اوائل تک ایران کے غیر اعلانیہ ساختہ جوہری پروگرام کا حصہ تھے اور کچھ سرگرمیوں میں اَن ڈیکلئیرڈ  جوہری مواد استعمال کیا گیا تھا۔" اس بات کی نشاندہی آئی اے ای اے کی  نومبر  مین رکن ممالک کو دی گئی رپورٹ میں کی گئی ۔ یہ رپورٹ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی طرف سے درخواست پر بھیجی گئی تھی۔ انٹرنیشنل نیوز ایجنسی روئٹرز ن اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے اب یہ رپورٹ  دیکھی ہے۔

ویانا میں قائم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹ – جسے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی دیکھا تھا – کہتی ہے کہ 17 مئی تک ایران نے 408.6 کلوگرام (900.8 پاؤنڈ) یورینیم افزودہ کر کے 60 فیصد تک پہنچایا ہے۔ فروری میں آئی اے ای اے کی آخری رپورٹ کے بعد سے یہ 133.8 کلوگرام (294.9 پاؤنڈ) کا اضافہ ہے۔

یہ مواد  ہتھیاروں کے لئے استعمال ہونے والی نوے فیصد انرچ ہو چکی یورینئیم سے کچھ ہی دور ایک  تکنیکی قدم ہے۔ فروری میں ایک رپورٹ نے ایران کا ساٹھ فیصد انرچ ہو چکا یورینئیم کا ذخیرہ   274.8 کلوگرام (605.8 پاؤنڈ)  بتایا تھا۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ "ایران واحد غیر جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست ہے جو اس سطح تک افزودہ کر رہی ہے۔"

گروسی کا کہنا ہے کہ وہ "آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل اور موثر تعاون کرنے کے لیے ایران سے اپنی فوری اپیل کا اعادہ کرتے ہیں"۔