ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

میڈیکل یونیورسٹیز کے وی سیز کی سلیکشن، مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آگئیں

 میڈیکل یونیورسٹیز کے وی سیز کی سلیکشن، مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آگئیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

زاہد چودھری:سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی سلیکشن کے عمل میں مبینہ سنگین بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق امیدواروں کا انٹرنل میرٹ جاری نہ کیے جانے سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وائس چانسلر کے امیدواروں کے لیے 50 نمبر اکیڈمک قابلیت، ریسرچ، پیشہ ورانہ کامیابیوں اور قومی اعزازات جبکہ مزید 50 نمبر انٹرویو کے لیے مختص تھے۔ تاہم امیدواروں کو ان کی تعلیمی قابلیت اور خدمات کی بنیاد پر دیے گئے نمبرز سے آگاہ ہی نہیں کیا گیا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انٹرنل میرٹ میں کم نمبر حاصل کرنے والے بعض امیدواروں کو انٹرویو میں زیادہ نمبر دے کر شارٹ لسٹ کیا گیا، جبکہ انٹرنل میرٹ میں نمایاں پوزیشن رکھنے والے امیدواروں کو انٹرویو میں کم نمبر دے کر سلیکشن کی دوڑ سے باہر کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وی سی سلیکشن کے عمل میں میرٹ کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند، ذاتی معالج اور کلاس فیلوز کو مبینہ طور پر فوقیت دی گئی۔ بعض ایسے امیدواروں کو بھی وائس چانسلر کے لیے شارٹ لسٹ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جنہیں وزیراعلیٰ نے مبینہ نااہلی پر عہدے سے ہٹایا تھا۔

دوسری جانب میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کے لیے عمر کی حد 70 سال کیے جانے کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمر کی حد بڑھانے سے صرف ایک امیدوار کو فائدہ پہنچا۔

وائس چانسلرز کی سلیکشن کے لیے قائم سرچ کمیٹی بھی متنازع قرار دی جارہی ہے۔ پانچ رکنی کمیٹی میں 3 بیوروکریٹس اور نواز شریف کے ذاتی معالج شامل ہیں، جبکہ کمیٹی میں میڈیکل ایجوکیشن کے کسی ماہر کو شامل نہیں کیا گیا۔