سٹی42: سیلاب زدہ پنجاب کے بہت سے علاقوں میں بارش نے بے گھر شہریوں کے لئے زندگی دشوار تر کر دی۔
آج بارش سے سیلاب زدہ علاقوں میں بے گھر ہونے والے لاکھوں شہریوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم کوئی افسوسناک حادثہ رپورٹ نہیں ہوا۔
راوی، ستلج، چناب، ڈیک، ایک اور پلکھو کے سیلاب کی زد مین آنے والے شہروں اور دیہاتوں سے سیلاب کا پانی ابھی نہیں اترا، اس دوران آج کئی علاقوں مین موسلا دھار بارش برس گئی۔ سیلاب سے گھرے علاقوں میں مزید موسلادھار بارش کے باعث بےگھر ہونے والے اور ان کی مدد کرنے والے دونوں مزید مشکلات کے میں گھر گئے۔ پہلے سے سیلابی پانی میں ڈوبے علاقوں میں بارش کا پانی بھی آ گیا۔
لاہور میں آج شہر بھر میں اور نواحی علاقوں میں دور دور تک کئی گھٹے تک موسلادھار بارش ہوئی، شاہدرہ کی کئی بستیوں میں دریائے راوی کے سیلابی پانی کے بعد شدید بارش نے سڑکوں پر پانی کی سطح میں مزید اضافہ کردیا۔ چوہنگ میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی تاحال زیر آب ہے تاہم وہاں آج پانی کی سطح کم ہوئی۔
چنیوٹ، وزیرآباد،گجرات، ننکانہ صاحب اور نارووال میں بارشوں کے بعد نشیبی علاقوں کی صورت حال خراب ہے۔
بارش کے بعد جہلم میں بھی پہاڑی برساتی نالے بپھر گئے،کئی مقامات پر پانی آبادیوں میں آگیا، ایک مدرسے کی چھت پر پھنسے بچوں کو کشتی کے ذریعے ریسکیو کیا گیا۔
پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب برقرار
پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کہیں کم ہوا تو کہیں بڑھ گیا لیکن مجموعی طور پر تشویشناک اور خطرناک صورتحال برقرار ہے۔ دریائے چناب کے سیلاب سے 1169، دریائے راوی کے پانی سے478، اور دریائے ستلج کی سیلاب سے 391 گاؤں پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
وزیرآباد میں سیلاب میں پھنسا ایک خاندان آج 4 روز بعد پانی سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔
