ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے چوری کے مقدمے میں قصور پولیس کی ناقص تفتیش پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آفتاب پھلروان کو تفتیش مکمل کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دے دی۔
یہ ریمارکس جسٹس محمد طارق ندیم نے ملزم شاہ نواز کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کے دوران دیے، جہاں ڈی پی او قصور ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران جسٹس محمد طارق ندیم نے ڈی پی او قصور سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے معاملے کا جائزہ لیا ہے، جس پر آفتاب پھلروان نے بتایا کہ پہلے تفتیشی افسر نے بیٹے کے ساتھ باپ کو بھی قصوروار قرار دیا تھا، تاہم تفتیشی افسر کو تبدیل کرنے کے بعد نئی تفتیش میں بیٹا قصوروار جبکہ باپ بے قصور قرار پایا ہے۔
ڈی پی او نے عدالت کو بتایا کہ منی ٹریل کے مطابق رقم ملزم کی والدہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی اور مزید تحقیقات سے یہ معلوم کرنا ہے کہ رقم کس نے نکلوائی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اگر تفتیشی افسر ضمنی ملزم کے حق میں رپورٹ دے چکا ہے تو پھر گرفتاری کیوں درکار ہے؟ اس پر ڈی پی او قصور نے کہا کہ فی الحال ملزم کی گرفتاری مطلوب نہیں۔
جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسران پہلے ملزم کے حق میں رپورٹ دیتے ہیں اور بعد میں عدالت آ کر گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں، اس قسم کی ناقص تفتیش انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
ڈی پی او قصور نے عدالت کو بتایا کہ پہلے تفتیشی افسر کے خلاف چارج شیٹ جاری کی جا چکی ہے اور اسے سزا دی جائے گی۔
عدالت نے ڈی پی او قصور کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی اور آئندہ سماعت پر ان کی حاضری سے بھی استثنیٰ دے دیا۔