سٹی 42: وزیراعظم کی قائم کردہ پٹرولیم پرائسنگ کمیٹی کا پانچواں اجلاس وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں آئل سیکٹر کی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن، پٹرولیم قیمتوں کے نئے نظام اور شعبے میں اصلاحات سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کمیٹی اراکین نے روزانہ پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے فارمولے کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئے پرائسنگ میکنزم سے شفافیت میں اضافہ اور قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ علی پرویز ملک نے ہدایت کی کہ ڈی ریگولیشن کے عمل کے لیے واضح اہداف اور سنگِ میل مقرر کیے جائیں، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرولیم سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا ذمہ دار بنایا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اوگرا کی ویب سائٹ پر روزانہ پٹرولیم قیمتوں، پرائسنگ فارمولے اور متعلقہ ڈیٹا پر مبنی ڈیش بورڈ فعال کر دیا گیا ہے، جس سے عوام کو معلومات تک بہتر رسائی حاصل ہوگی اور نظام مزید شفاف بنایا جا سکے گا۔
کمیٹی نے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر اور پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ اقدامات مستقبل میں پٹرولیم قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
اجلاس میں نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام پر عائد پابندی، اس کے مارکیٹ میں مسابقت اور سرمایہ کاری پر اثرات، جبکہ فریٹ مارجن پول کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے اس معاملے پر مزید تفصیلی غور کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
کمیٹی نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ ایف بی آر اور پٹرولیم ڈویژن سے مشاورت کے بعد ونڈ فال ٹیکس سے متعلق آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کی جائے۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ ذیلی کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں پٹرولیم سیکٹر میں شفافیت، مسابقت، کارکردگی اور صارفین کے تحفظ کے لیے جامع اصلاحاتی روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔