امانت گشکوری : وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر مطالبہ کرتے ہیں، آئین ہمیں احتجاج کا حق دیتا ہے، ابھی اجلاس ہوگا جس میں فیصلہ کریں گے، 8 فروری کا احتجاج برقرار ہے۔
سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ کل ہم اڈیالہ جیل بیٹھے آج یہاں ہیں، پہلے سیاسی ملاقاتیں بند کرنے کا کہا گیا اب دو دنوں سے بانی کی صحت کیلئے احتجاج ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرز ،اہلخانہ کی اجازت کے بغیر ہسپتال لایا گیا، پانچ دن قوم سے یہ بات چھپائی گئی، یہ نظام مفلوج اور بے حس ہوچکا ہے، صوبے کا وزیر اعلی دو راتوں سے روڈ پر بیٹھا ہے، دوسری طرف وزیر اعلی کو ائیر فورس کا جہاز دیا جاتا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام جب فیصلے اپنے ہاتھ میں لے تو نقصان سب کا ہوتا ہے، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر مطالبہ کرتے ہیں، آئین ہمیں احتجاج کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی اجلاس ہوگا جس میں فیصلہ کریں گے، 8 فروری کا احتجاج برقرار ہے۔
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سپریم کورٹ کے باہر سے واپس روانہ ہوگئے ، جس کے بعد پی ٹی آئی قیادت بھی سپریم کورٹ سے واپس روانہ ہوگئی ۔