ویب ڈیسک: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیوں نے سرکاری اداروں میں ملازمین کو کم از کم ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔
چیئرپرسن نزہت صادق کی زیر صدارت اجلاس میں مختلف سرکاری اداروں میں کم از کم اجرت کی ادائیگی پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے نشاندہی کی کہ کئی ادارے اب بھی ملازمین کو کم از کم ماہانہ اجرت ادا نہیں کر رہے۔ رکن اسمبلی نتاشہ دولتانہ نے کہا کہ سرکاری اداروں میں فرائض انجام دینے والے سیکیورٹی گارڈز کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تنخواہ نہیں دی جاتی۔
آغا رفیع اللہ نے تجویز دی کہ سیکیورٹی گارڈز کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے ہونی چاہیے اور بتایا کہ انہوں نے یہ معاملہ سیکرٹری داخلہ کے سامنے بھی اٹھایا ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے واضح کیا کہ تمام اداروں میں کم از کم تنخواہ کی ادائیگی پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے، جس پر قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ تمام سرکاری ادارے کم از کم ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔
اجلاس میں قومی شاہراہوں پر اشیائے ضروریہ کی زائد قیمتوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ قیمتوں کی مسلسل جانچ پڑتال کے دوران سروس ایریاز اور ریسٹ ایریاز کے 16 کنٹریکٹس معطل کیے جا چکے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے تھرڈ پارٹی کے ذریعے بھی جانچ پڑتال کا نظام متعارف کرایا جائے۔