ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عمارتوں میں آتشزدگی ، فائر سیفٹی اقدامات کیس ، 10 روز کی مہلت

 عمارتوں میں آتشزدگی ، فائر سیفٹی اقدامات کیس ، 10 روز کی مہلت
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات، فائر سیفٹی اقدامات کیس کی سماعت، پنجاب حکومت، پی ڈی ایم اے، آئی جی پولیس، صوبے بھر کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس سمیت مختلف اداروں کی رپورٹس لاہور ہائیکورٹ میں پیش، عدالت نے درخواست گزار وکیل کو محکموں کو فریق بنانے کیلئے 10 روز کی مہلت دے دی.

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات اور فائر سیفٹی اقدامات سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کی ، این ڈی ایم اے، ای پی اے، ایل ڈی اے، والڈ سٹی اتھارٹی اور ریسکیو 1122 سمیت دیگر محکموں کے نمائندے بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر پیش ہوئے۔ درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے ،دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تنظیم نو کے بعد راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی معرض وجود میں آ چکی ہے، تاہم اب تک اس ادارے نے فائر سیفٹی اقدامات کے حوالے سے کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی ۔ انہوں نے استدعا کی کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پنجاب کے تمام کمشنرز اور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی کو بھی اس کیس میں فریق بنایا جائے۔

وکیل درخواست گزار نے مزید بتایا کہ ایک نئی بزنس ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی قائم کی جا چکی ہے جو ایل ڈی اے اور روڈا کے ماتحت نہیں، اس لیے اسے بھی فریق بنانا ضروری ہے تاکہ تمام متعلقہ اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر فائر سیفٹی کے جامع اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ عدالت اس کیس کا جلد فیصلہ کرنا چاہتی ہے، تاہم بار بار متفرق درخواستیں دائر ہونے سے کیس التواء کا شکار ہو جاتا ہے۔

 انہوں نے ہدایت کی کہ اگر کسی بھی محکمے کو فریق بنانا ہے تو ایک ہی مرتبہ جامع درخواست دائر کی جائے، بعد ازاں مزید فریق شامل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔چیف جسٹس نے درخواست گزار وکیل کو مزید محکموں کو فریق بنانے کیلئے متفرق درخواست دائر کرنے کی 10 روز کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ بار بار فریقین شامل کرنے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کیس کو طول دینا مقصود ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14 مئی تک ملتوی کر دی۔

Ansa Awais

Content Writer