ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پورے خطے کو شدید خطرات لاحق ہیں، بھارت کا رویہ انتہائی غیرذمہ دارانہ ہے؛ اسحاق ڈار

پورے خطے کو شدید خطرات لاحق ہیں، بھارت کا رویہ انتہائی غیرذمہ دارانہ ہے؛ اسحاق ڈار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پورے خطے کو شدید خطرات لاحق ہیں، بھارت کا رویہ انتہائی غیرذمہ دارانہ ہے۔

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس میں کہا کہ پورے خطے کو شدید خطرات لاحق ہیں، بھارت کا رویہ انتہائی غیرذمہ دارانہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویہ اپنایا, بھارت کے غیر قانونی اقدامات اور بیانات نے صورتحال کو پچیدہ کردیا ہے. 

اسحاق ڈار نے بتایا کہ پریس کانفرنس کا مقصد صورتحال سے آگاہ کرنا ہے، نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کارروائی ناقابل قبول  ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، دہشت گردی کے ہاتھوں پاکستان نے جتنا نقصان اٹھایا اتنا کسی کا نہیں ہوا۔ 

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے عالمی براداری کے ساتھ ملکر کام کیا، بھارت پاکستان سمیت مختلف ملکوں میں دہشت گردی میں ملوثہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ملکوں کے رہنماوں سے خطے کی صورتحال پر بات ہوئی ہے، دہشت گردی کے ہر واقعے پر الزام تراشی بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے ایسے واقعات کا استعمال ہوتا ہے، بھارتی قیادت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے مختلف ہتکھنڈے استعمال کرتی ہے۔ 

اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو دہشت گردی سے منسلک کرنا چاہتا ہے، مقبوضہ کشمیر کی عوام کے حقوق کو کچلنے کے لیے بھارت نے کالے قانون کا سہارا لیا، اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا گیا، پورا خطہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے خطرے میں ہے ۔ 

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں اور کشمیریوں کے خلاف مذموم مہم جاری ہے، بھارت  خطے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات میں تعاون کی پیش کش کی ہے، غور کرنا ہوگا کہ بھارت نے یہ مہم جوئی کیوں کی اور اس کے مقاصد کیا ہیں، کوئی فریق سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ ختم نہیں کرسکتا، سندھ طاس معاہدے کے متعلق بھارتی بیان عالمی قوانین کی صریحا خلاف ورزی ہے، پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے لیے لائف لائن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ دو روز میں بھارت کی جانب سے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اور اقدامات کئے گئے، کسی قسم کی مہم جوئی کا بھر پور طاقت سے جواب دیں گے۔ 

 وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے میں انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کرتے ہیں، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، معصوم شہریوں کا قتل قابل مذمت ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے، پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی برادری سے اس خطرے سے متعلق رابطے میں ہیں، بھارت خطے میں جان بوجھ کرحالات کوکشیدہ کر رہا ہے، پاکستان سمیت کئی ملکوں میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، بھارت دوسروں پر انگلی اٹھانےکے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دے، پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے غیر ذمہ درانہ رویہ اور اقدامات کیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات جارحیت پرمبنی ہیں، پاکستان نہ پہلگام واقعے میں ملوث ہے، نہ  پہلگام واقعےکا بینیفشری ہے، پاکستان نے پہلگام واقعےکی غیر جانبدار تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے، بھارت میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ بھارت کا اپنا ڈرامہ ہوتا ہے،  بھارت میں ایسے واقعات اس وقت ہوتے ہیں جب وہاں کوئی اہم شخصیت دورہ کرتی ہے، بھارت بتائےکسی اہم شخصیت کے دورے پر ہی ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ پہلگام واقعے پر بھارت نے فوری طور  پر پاکستان پر الزام لگا دیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنےکی کوئی شق نہیں ہے، قومی سلامی کونسل کا واضح پیغام ہےکہ پانی روکنےکا اقدام جنگ تصور کیا جائےگا، بھارتی اقدام سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکارہوگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے کسی بھی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا، ہم واضح کرتے ہیں پاکستان کشیدگی بڑھانے میں پہل نہیں کرے گا، واضح کرتے ہیں اگر بھارت نے کوئی کارروائی کی تو بھرپور جواب دیں گے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنی علاقائی خود مختاری اور سالمیت  کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گا، پاکستان کی مسلح افواج مکمل تیار ہیں، بھارت نے کوئی بھی جارحیت کی تو منہ توڑ جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برداری پاکستان سمیت مختلف ملکوں میں دہشت گرد کارروائیوں پر بھارت کی جواب طلبی کرے ، بھارت کے جارحانہ اقدامات خطے کو تباہی سے دو چار کرسکتے ہیں۔ 

پاکستان کے پہلگام معاملے پر عالمی برادری سے سوالات
وزیر خارجہ اسحاق ڈار  نے پہلگام معاملے پر عالمی برادری سے 6  سوالات کیے۔

کیا یہ وقت نہیں کہ پاکستان سمیت دنیا میں بھارت کی جانب سے شہریوں کے قتل کا احتساب کیا جائے؟
کیا یہ اہم نہیں کہ پہلگام میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور بھارت کی جارحیت میں تفریق کی جائے؟
کیا ایسا نہیں کہ بھارت ایک ملک پر فوجی حملےکے لیے پراپیگنڈا کر رہا ہے؟
کیا بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کا احترام نہ کرنے سےخطےکی صورتحال خراب نہیں ہوگی؟
کیا یہ وقت نہیں کہ عالمی برادری مذہبی نفرت انگیزی اور اسلاموفوبیا پربھارت کی مذمت کرے؟
کیا ہم آگاہ ہیں کہ بھارت کی جارحانہ سوچ سے خطے میں ایٹمی طاقتوں کا ٹکراؤ  خطرناک ہوسکتا ہے؟