سٹی42: رمضان نگہبان پیکج 2024 میں بے تحاشا مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، بہت سا راشن ان لوگوں میں باٹ دیا گیا جن کے نام پتے غلط نکلے، بہت سا راشن سرکاری ملازم ہہڑپ کر گئے۔ ڈیڑھ ارب روپیہ کا راشن مستحق شہریوں تک نہیں پہنچا۔
گزشتہ رمضان کے دوران حکومت نے غریب گھرانوں کے لئے راشن کی امداد مہیا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جسے رمضان نگہبان پیکیج کا ٹائیٹل دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت اور بعد ازاں مسلم لیگ نون کی بھی حکومت کے دوران غیر شہریوں کو راشن کی امداد دینے کے لئے کسی جگہ بلایا جاتا تو وہاں بھگدڑ مچ جاتی تھی اور جانی نقصان ہوتا تھا، اس سرگرمی میں غریب شہریوں کی تذلیل بھی ہوتی تھی۔ ان قباحتوں سے بچنے کے لئے موجودہ حکومت نے مستحق شہریوں کے گھروں پر امدادی سامان بھیجنے کا منصوبہ بنایا تو اب آڈٹ سے پتہ چلا کہ ایک ارب 61 کروڑ روپے کا سامان مستحق شہریوں تک نہیں پہنچا، کہیں اور ہی پہنچ گیا۔

آڈٹ رپورٹ میں رمضان نگہبان پروگرام کے راشن کی اہلیت نہ رکھنے والے (جو غریب نہیں) سرکاری ملازموں میں وسیع پیمانہ پر تقسیم ہوئی اور " ڈیٹا کی ناکامی" کے سنگین انکشافات بھی ہوئے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں سرکاری افسران کی جانب سے اربوں کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آگئیں،، آڈیٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا،، لاہور،رحیم یار خان، فیصل آباد میں 1ارب63کروڑ کے پیکٹ خورد بردہوئے،، لاہور سے غیراہل سرکاری ملازمین کی تعداد 4 ہزار305 ہے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں کا پول کھل گیا
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق غلط (فیک) ڈیٹا کی وجہ سے 1 ارب 81 کروڑ روپے ضائع ہوئے۔20 کروڑ سے زائد رقم کا راشن 55,927 نا اہل افراد کوملا۔
5لاکھ راشن کے پیکٹ ایسے وصول کنندگان کو دئیے گئے جن کے پتے غلط تھے۔
راشن کے پیکٹوں پر صرف لاہور اور پی کے درج تھاْ
نامکمل ڈیٹا کی وجہ سے 16,597 کیسز میں نام ،فون نمبر غائب تھے۔
آڈٹ رپورٹ میں سوال پوچھا گیا ہے کہ ایڈریسز غلط تھے تو 5لاکھ راشن کے پیکٹ کہاں تقسیم ہوئے۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ کی مد میں 13 کروڑ س روپے کا نقصان ہوا۔
لاہور،رحیم یار خان،فیصل آباد میں 1ارب63کروڑ کے پیکٹ خورد برد ہوئے،،لاہور سے غیر اہل سرکاری ملازمین کی تعداد 4,305 ہے ،لاہور میں ہر پیکٹ کی ترسیل پر 597 روپے خرچ ہوئے ، جبکہ دیگر اضلاع میں ہر پیکٹ پر اوسطاً 138 روپے خرچ ہوئے
آڈٹ رپورٹ کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی نے معیار چیک کرنے میں غفلت کی،پی آئی ٹی بی ،ڈپٹی کمشنرز کا ایڈریس چیک نہ کرنا بھی ایک سوالیہ نشان ہے؟بی آئی ایس پی نے مدد حاصل کرنے کے اہل افرادکی فہرست اپ ڈیٹ نہ کرنے میں غفلت برتی۔
