یونیورسٹیوں کی آن لائن کلاسز کی رینکنگ جعلی قرار

یونیورسٹیوں کی آن لائن کلاسز کی رینکنگ جعلی قرار

( اکمل سومرو ) ہائیرایجوکیشن کمیشن نے یونیورسٹیوں کی آن لائن کلاسز کی رینکنگ کو جعلی قرار دے دیا، ایچ ای سی نے واضح کر دیا ہے کہ کمیشن سے منسوب تازہ رینکنگ فراڈ ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق پاکستان کی 138 یونیورسٹیوں نے آن لائن کورسز کی تفصیلات جمع کرائی ہیں جبکہ 30 فیصد یونیورسٹیوں نے تاحال اپنی رپورٹس جمع نہیں کرائی۔ ایچ ای سی حکام کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کے 42 ہزار 392 اساتذہ آن لائن کلاسز پڑھا رہے ہیں اور ملک کی صرف 127 یونیورسٹیوں نے طلباء کو ڈیجیٹل ریسورسز تک رسائی دی ہے۔

ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر سے یونیورسٹیوں کی تفصیلات جمع کرنے کے بعد آن لائن سہولیات سے متعلق رینکنگ جاری ہوگی تاہم اب تک کمیشن کے تحت کسی قسم کی رینکنگ نہیں کی گئی۔

ادھر پنجاب یونیورسٹی ملازمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وائس چانسلر آفس کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ 35 سال سے اوور ٹائم ، کھانے سمیت دیگر الاؤنس دیئے جارہے ہیں اور یہ ہمارا بنیادی حق ہے۔ احتجاج کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ نے ملازمین سے بات چیت کی اور انہیں بتایا کہ مذکورہ الاونس ختم نہیں کیے جا رہے بلکہ نئے بجٹ دستاویز میں انہیں شامل کیا گیا ہے۔

رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر خالد خان کی جانب سے تمام شعبہ جات کے سربراہان کو مراسلہ جاری کیا گیا، جس میں الاؤنس ختم نہ کرنے سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔