ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارتی آبی جارحیت، آج ایک اور سیلابی ریلا آئے گا,الرٹ جاری

بھارتی آبی جارحیت، آج ایک اور سیلابی ریلا آئے گا,الرٹ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں دریائے راوی کی طغیانی نے خطرناک صورتحال پیدا کر دی، راوی کنارے کی کئی بستیاں زیر آب آ گئیں جبکہ بھارت سے آج شام ایک اور سیلابی ریلا دریائے چناب اور راوی میں داخل ہونے کا امکان ہے جس کے باعث  سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا جبکہ آج پنجاب سمیت ملک بھر میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے جس سے سیلابی صورتحال بدتر ہو سکتی ہے۔

 راوی، چناب اور ستلج میں شدید سیلابی کیفیت نے لاہور، قصور، جھنگ، سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ، بہاولنگر اور دیگر اضلاع کو متاثر کیا ہے۔ لاہور کے نواحی علاقے بھی راوی کے سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں، جہاں سینکڑوں گھر خالی کرا لیے گئے ہیں جبکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے۔

دریائے راوی  میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح میں معمولی کمی کے بعد بھی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جہاں پانی کا بہاؤ اب بھی 2 لاکھ 11 ہزار 330 کیوسک ہے۔جسڑ پر پانی کی سطح کم ہوکر 89,820 کیوسک جبکہ بلوکی پر 1 لاکھ 23 ہزار 725 کیوسک تک پہنچ چکی ہے۔ایف ایف ڈی کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں تک پانی کی سطح مستحکم رہنے کا امکان ہے۔
لاہور  میں بادامی باغ، شفیق آباد، امین پارک، افغان کالونی، منظور گارڈن، برکت کالونی، مانوال، عزیز کالونی اور چوہنگ کے متعدد علاقے زیرِآب آگئے۔چوہنگ کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں بھی پانی داخل ہو گیا، مکین نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔فرخ آباد اور پارک ویو سوسائٹی سمیت کئی مقامات سے ریسکیو ٹیموں نے کشتیوں کی مدد سے 191 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 نے متاثرہ علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے فوری امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔اب تک فرخ آباد سے 72 افراد، مانگا منڈی سے 40 افراد، پارک ویو سے 15، تھیم پارک سے 7، دیگر سوسائٹیز سے 6، نانو ڈوگر سے 4، شفیق آباد سے 1 شخص ریسکیو کیا جا چکا ہے۔صوبہ بھر  میں 1692 سے زائد دیہات سیلاب کی زد میں آ چکے ہیں جبکہ  4 لاکھ 60 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔اناج کی فصلیں تباہ، بنیادی ڈھانچہ متاثر، سینکڑوں پل اور سڑکیں منقطع ہیں۔
اس کے علاوہ نارنگ منڈی، قصور، جھنگ، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، بہاولنگر سمیت کئی اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں۔
بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑنے کے بعد آج شام ایک اور سیلابی ریلا دریائے چناب میں داخل ہونے کا امکان ہے  جس کے باعث ہیڈ تریموں بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا متوقع ہے۔2 ستمبر کو ہیڈ پنجند پر بھی خطرناک صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
حکومتی اقدامات کے تحت  فلڈ الرٹ جاری، تمام ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ پی ڈی ایم اے اور فوجی دستے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور  متاثرہ علاقوں میں خوراک، پانی اور ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔