ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شرح سود میں اضافہ ؛ گوہر اعجاز نے سوال اٹھادیے

 شرح سود میں اضافہ ؛ گوہر اعجاز نے سوال اٹھادیے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے شرح سود میں اضافے پر سوال اٹھا دیے گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ شرح سود بڑھانے کے بھاری معاشی نتائج ہو سکتے ہیں ایک فیصد شرح سود بڑھانے سے قرضوں پر سود کی ادائیگی 600 ارب روپے بڑھ جاتی ہے۔

شرح سود بڑھانے سے رواں سال 8 ٹریلین سود ادائیگیوں میں مزید 600 ارب روپے کا اضافہ ہوگا نتیجتاً عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالا جائے گا۔سابق نگرا  وفاقی وزیر اور چیئرمین ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایک فیصد شرح سود بڑھانے پر سوال اٹھا دیے ہیں گوہر اعجاز نے سوال کیا ہے کہ کیا شرح سود بڑھانے سے فیول بحران اور تیل کی قیمتوں سے ہونیوالی مہنگائی کو روکا جا سکتا ہے ؟ 
کیا پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافے سے اسٹیٹ بینک عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ روک سکتا ہے ؟

کیا شرح سود میں ایک فیصد اضافے سے  ملک میں فیول کی کھپت کم ہوجائے گی ؟

گوہر اعجاز نے کہا کہ  معروف ماہر معاشیات جوزف سٹگلیٹز کے مطابق سپلائی سائیڈ مہنگائی شرح سود بڑھانے سے کم نہیں ہو سکتی تاہم شرح سود بڑھانے کے بھاری معاشی نتائج ہو سکتے ہیں ایک فیصد شرح سود بڑھانے سے قرضوں پر سود کی ادائیگی 600 ارب روپے بڑھ جاتی ہے شرح سود بڑھانے سے رواں سال 8 ٹریلین سود ادائیگیوں میں مزید 600 ارب روپے کا اضافہ ہوگا نتیجتاً عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالا جائے گا سود کی ادائیگیوں کے لیے عوام پر بھاری ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔