سٹی42: خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں "آئینی بحران" ہے۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے سامنے میڈیا کے نمائندوں سے باتوں کے دوران سہیل آفریدی نے اچانک یہ دعویٰ کر دیا کہ پاکستان میں آئینی بحران ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ "پاکستان میں آئینی بحران کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔"
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا پاکستان میں آئینی بحران پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ سہیل آفریدی نے صرف خود کو نطر آنے والے اس آئینی بحران کی کوئی نشانی نہیں بتائی البتہ انہوں نے کہا، ججوں کے احکاماتِ ہوا میں اڑائے جا رہے ہیں۔ ہمارے لیڈر کا 190 ملین پاؤنڈ کیس نہیں لگایا جا رہا۔ گزارش ہے وہ کیسز لگائے جائیں۔ سہیل آفریدی نے کہا، جس دن پاکستان میں انصاف ہو گا ناحق قید لوگ باہر ہوں گے۔
افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے متعلق سہیل آفریدی نے کہا، ان مذاکرات سے صوبائی حکومت براہ راست متاثر ہو گی لیکن اسے اعتماد میں نہیں لیا گیا،۔ کے پی کے کے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ "جو مذاکرات کامیاب بنا سکتے ہیں انہیں کمیٹی میں شامل کرنا چاہیے۔" تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کون لوگ "مذاکرات کو کامیاب" بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، اس معاملے پر جو مؤقف ہمارے لیڈر کا ہے وہی ہمارا بھی ہے، دوحہ مذاکرات پر اسمبلی فلور پر میری تقریر موجود ہے، میں نے اسےخوش آئند کہا تھا۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ اور ملک کے وزیراعظم کی توقیر ہونی چاہیے۔