شہباز شریف کیخلاف ایک اور کیس کھل گیا

شہباز شریف کیخلاف ایک اور کیس کھل گیا


(شاہین عتیق، سعود بٹ) آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکینڈل میں گرفتار سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی مشکلات مزید بڑھ گئیں، نیب نے شہبازشریف  کیخلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا کیس بھی کھول دیا۔

ترجمان نیب کے مطابق آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم کے بعد شہباز شریف سے دیگر کیسز پر بھی سوالات کیے جارہے ہیں اور ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔ناجائز اثاثہ جات کیس میں شہباز شریف کی ابھی گرفتاری نہیں ڈالی۔ وہ پہلے ہی گرفتار ہیں اور عدالتی ریمانڈ پر ہیں۔ ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ریمانڈ ختم ہونے کے بعد باضابطہ ناجائز اثاتہ جات کیس میں کل گرفتار کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو 30 اکتوبر کو مقامی تعطیل کی وجہ سے کل 29 اکتوبر کو احتساب عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ نیب نے اپنے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ ڈی جی نیب سلیم شہزاد نے نیب لیگل ٹیم کے سربراہ چودھری خلیق الزماں سے شہباز شریف کی قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے حوالے سے مشاورت کی۔ جس میں 30 اکتوبر کو تعطیل کے باعث شہباز شریف کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے سے پہلے احتساب عدالت میں پیش کیے جانے پراتفاق ہوا۔

اپوزیشن لیڈر کا 29 اکتوبر کو اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا پروڈکشن آڈر جاری ہوچکا ہے ۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے 29 اکتوبر کو 4 بجے اسمبلی کا اجلاس طلب کر رکھا ہے۔ انہیں راہداری ریمانڈ کے بغیر اسلام آباد نہیں لے جایا جا سکتا۔ کل جسمانی اور راہداری ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن3بجے 15 نومبر 2018  

واضح رہے کہ نیب  لاہور نے شہبازشریف کو آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم میں گرفتار کیا تھا اور وہ 20 روز سے نیب کی تحویل میں ہیں اس دوران احتساب عدالت شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں دو مرتبہ توسیع کرچکی ہے۔