ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مہرنگ کی حمایت کرنے کے بعد ایف آئی اے کی طلبی پر اختر مینگل رو پڑے

مہرنگ کی حمایت کرنے کے بعد ایف آئی اے کی طلبی پر اختر مینگل رو پڑے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:   بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے دہشتگردوں کی ساتھی  ماہ رنگ بلوچ کے کو گلوریفائی کرنے والا  ٹویٹ کرنے پر نوٹس جاری کیا ہے۔سردار اختر مینگل نے نہ صرف اس نوٹس کی تصدیق کی بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کی مالی معاونت کے الزام ان کے فوت ہونے والے بھائی سمیت خاندان کے متعدد دیگر افراد کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ 

 اختر مینگل نے اپنے جرم کا جواز یہ پیش کیا کہ ماہ رنگ کی گرفتاری کی انھوں نے اکیلے مذمت نہیں کی بلکہ متعدد دیگر سیاسی جماعتوں کے علاوہ اس اقدام کو پاکستان اور حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

 ایف آئی اے کے نوٹس کے مطابق اس طرح انھوں نے ایک ایسے فرد کی سرگرمیوں کی ترویج کی جو کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ممنوع قرار دی گئی ہیں اور یہ سرگرمیاں حکومت اور عام عوام میں بے چینی، خوف، اور عدم استحکام پھیلانے کے مترادف ہیں, نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ معلومات غلط ہیں کو ایک انفارمیشن سسٹم کے ذریعے پھیلایا۔

 انھیں اس نوٹس کے ذریعے یہ کہا گیا تھا کہ وہ اسلام آباد میں پیش ہو کر اس کی وضاحت کریں ورنہ یہ یقین کیا جائے گا کہ آپ کے پاس اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘
نوٹس کے مطابق اس کی عدم تعمیل بھی تعزیرات پاکستان کے سیکشن 174کے تحت قابل سزا ہے۔سردار اختر مینگل کو ایف آئی اے نے پیشی کے لیے 27 جون کا نوٹس جاری کیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔

 انھوں نے فون پر بتایا کہ ان کو یہ نوٹس 14 اپریل کو ایک ٹویٹ کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے جب وہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کی دیگر خواتین کی گرفتاری کے خلاف پارٹی کے زیر اہتمام احتجاجی دھرنے پر بیٹھے تھے۔انھوں نے کہا کہ ان کے علاوہ ان کے دو بڑے بھائی میر ظفراللہ مینگل اور میر جاوید مینگل کے علاوہ ان کہ اہلیہ اور بچوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ ہمارے اکائونٹس سے ڈاکٹر ماہرنگ کی مالی معاونت ہوئی ہے۔

 سردار اختر مینگل نے کہا کہ ان کے بڑے بھائی ظفر اللہ مینگل اس سال جنوری میں وفات پاگئے اور دماغی طور پر معزور ہونے کی وجہ سے ان کے نام پر کوئی اکائونٹ نہیں تھا جبکہ دوسرا بھائی میر جاوید مینگل دو دہائی سے زائد کے عرصے سے بیرون ملک مقیم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک ان کی اہلیہ کی بات ہے وہ علیل ہیں اور گزشتہ چار سال سے کومے میں ہیں اور دبئی میں زیر تعلیم دو بچوں کو نام پر بھی نوٹسز ہیں جن کے نام پر تاحال کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے وکلا ان نوٹسز کا جواب پیر کے روز دائر کریں گے لیکن پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے یہ ان کا حق ہے کہ وہ کسی بھی بے انصافی کے خلاف آواز بلند کریں اور وہ یہ آواز بلند کرتے رہیں گے۔