ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سوات سانحہ؛ حکومت پر تنقید ، علی امین نے ڈی سی معطل کر دیا

Ali Amin Gandapur, Sawar River tragedy , Swat tragedy, City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  علی امین گنڈاپور نے دریائے  سوات  میں دس شہریوں کے  ڈوب جانے اور تین کے اب تک لاپتہ ہونے کے  دل خراش واقعہ پر  عوام کی شدید مذمت کے دوران  سوات کے ڈپٹی کمشنر کو معطل کر دیا، اس سے پہلے علی امین نے کل چار اہلکاروں کو معطل کیا تھا۔ 

 فضا گٹ میں دریائے سوات میں تفریح کرتے ہوئے اٹھارہ سیاح اچانک سیلابی ریلا آنے کے بعد دریا کے بیچ مین واقع ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ کر مدد کے لئے پکارتے رہے، ریسکیو  کے اہلکار ڈیڑھ گھنٹے بعد وہاں پہنچے لیکن ان کے پاس دریا کے درمیان اونچی جگہ پر کھڑے  18 انسانوں کو وہاں سے نکالنے کے لئے کوئی سامان نہیں تھا۔ انہوں نے دریا پر پہنچنے کے بعد کچھ نہین کیا، اس دوران پانی بڑھتے بڑھتے اونچے ٹیلے کے اوپر چڑھ گیا اور وہاں کھڑے تمام افراد پانی میں بہہ گئے۔ 

علی امین گنداپور کی ھکومت نے کل اسسٹنٹ کمشنر بابوزی،اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ،ریسیکیو  کے ضلعی انچارج اور اسسٹنٹ کمشنر ریونیو اور ڈی سی سوات  کو معطل کیا تھا ، آج ڈپٹی کمشنر سوات شہزاد محبوب کو معطل کردیا۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ افسران کو معطل کرنا کوئی سزا  نہیں۔ جو ذمہ دار ہیں انہیں برطرف کیا جائے۔

مقامہ صحافیوں نے بتایا ہے کہ فضاگٹ سانحے پر سوات کے عوام شدید غم و غصے میں ہیں۔

عوام کو یقین ہے کہ یہ جانیں بچائی  جا سکتی تھیں۔ لاپروائی کے باعث انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔

عوام نے سوات انتظامیہ، ریسکیو اور صوبائی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اس خوفناک سانحہ کے دوران مصیبت مین پھنسے سیاحوں کو زندہ بچانے کے لئے بہت وقت تھا۔ پشاور میں وزیر اعلیٰ نے اس صورتحال پر توجہ ہی نہیں دی۔ وہ توجہ دیتے تو ان کا ذاتی ہیلی کاپٹر کچھ منٹوں میں وہاں پہنچ کر مصیبت مین پھنسے سیاحوں کو دریا کے ٹیلے سے اوپر اٹھا سکتا تھا۔