ویب ڈیسیک: وزارت ریلوے نے بین الاقوامی خریداری کے ٹھیکوں میں پری شپمنٹ انسپکشن (Pre-Shipment Inspection) کی شق ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے سی ای او ریلوے کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔
وزارت کے اقدام کا مقصد ریلوے افسران کے غیر ضروری سیر سپاٹوں پر قابو پانا ہے۔ ماضی میں "پری شپمنٹ انسپکشن" کے نام پر افسران بیرون ملک دورے کرتے تھے جس پر قومی خزانے کو اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا تھا۔
نئے ضوابط کے مطابق آئندہ کسی بھی بین الاقوامی ٹینڈر یا کنٹریکٹ میں پری شپمنٹ انسپکشن شامل نہیں کی جائے گی۔کوالٹی میٹریل کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ٹینڈرز میں تمام تکنیکی تفصیلات واضح طور پر درج کرنا لازم ہو گا۔
اگر کسی خاص کیس میں پری شپمنٹ انسپکشن ضروری ہو، تو متعلقہ سپلائر کو افسران کے ہوائی سفر اور رہائش کے اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔
اس کے علاوہ پہلے سے جاری یا ماضی میں کیے گئے بین الاقوامی ٹھیکوں میں موجود پری شپمنٹ انسپکشن کی شرائط بھی منسوخ کر دی گئی ہیں