خورشید رحمانی : کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں بین الاقوامی ڈیپ سی سرچ ٹیم کی اگست کے وسط سے ماہ کے آخر تک پاکستان آمد متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق جدید آلات سے لیس خصوصی ماہر غوطہ خور انتہائی گہرے سمندر میں سالویج آپریشن کے ذریعے طیارے کے ملبے، انجن، فیوزلاج، بلیک باکس اور عملے کی تلاش کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن میں ڈائیونگ بیل، ایئر بیگز، ریموٹ آپریٹڈ وہیکلز اور دیگر جدید آلات استعمال کیے جائیں گے، جبکہ اس ڈیپ سی سرچ آپریشن پر تقریباً 10 ملین ڈالر، یعنی لگ بھگ 2 ارب 78 کروڑ روپے لاگت آنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق طیارہ ساز کمپنی اور انشورنس کمپنی بھی ملبے اور حادثے سے متعلق حقائق جاننے کے لیے متحرک ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سمندر میں تباہ ہونے والا کارگو طیارہ آئرلینڈ کی ایک کمپنی کی ملکیت تھا، جسے راجہ طارق اور دیگر شیئر ہولڈرز نے ڈرائی لیز پر حاصل کیا تھا۔ انشورنس کلیم کی ادائیگی بھی طیارے کی مالک آئرش کمپنی کو کی جائے گی، جبکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت متاثرہ خاندانوں کو بھی معاوضہ دیا جائے گا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ طیارے کے مالک راجہ طارق متعدد رابطوں کے باوجود تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور دبئی میں موجود ہونے کے باعث انہوں نے میڈیکل بنیادوں پر ذاتی پیشی سے معذرت کر لی ہے۔ تاہم وہ زوم کے ذریعے تحقیقاتی حکام سے رابطے میں رہیں گے۔
ذرائع کے مطابق بیورو آف ایئرکرافٹ سیفٹی انویسٹی گیشن اگست کے پہلے ہفتے میں حادثے کی تحقیقات سے متعلق اب تک ہونے والی پیش رفت پر مشتمل عبوری رپورٹ حکومت پاکستان کو پیش کرے گا۔