وقاص عظیم: سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ، کہنا ہے کہ یورپی یونین انڈیا تجارتی معاہدہ پاکستان کی صنعتوں کے لیے بڑا خطرہ ہے، یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو ملنے والا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا، ای یو انڈیا تجارتی معاہدے سے پاکستان کی 9 ارب ڈالرز کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ متاثر ہو سکتی ہیں۔
سابق نگراں وفاقی وزیر سعر چیئرمین ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے یورپی یونین اور انڈیا کے درمیان ہونیوالے حالیہ تجارتی معاہدے کو پاکستان کی صنعتوں کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔ گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو ملنے والا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا پاکستان سمیت تمام علاقائی ممالک پر اب زیرو ٹیرف کا اطلاق ہوگا، اس سے قبل پاکستان کے لیے یورپی یونین نے زیرو ٹیرف فراہم کیا ہوا تھا۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ یورپی یونین اور انڈیا کے تجارتی معاہدے سے پاکستان کی 9 ارب ڈالرز کی ایکسپورٹس متاثر ہوسکتی ہیں اور اس معاہدے سے ایک کروڑ لوگ بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بچانے کے لیے آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو علاقائی نرخوں پر بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ صنعتوں پر ٹیکسز کی شرح علاقائی ممالک کے برابر کی جائے۔ صنعتوں کی کاروباری لاگت کو ہمسایہ ممالک کے برابر کیا جائے۔ ملکی صنعتیں سسٹم کی نا اہلی کا مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں۔