ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مستحق خاندانوں کو مالی معاونت کی تقسیم کا عمل پنجاب اور اب وفاقی حکومت کی جانب سے بھی شروع

مستحق خاندانوں کو مالی معاونت کی تقسیم کا عمل پنجاب اور اب وفاقی حکومت کی جانب سے بھی شروع
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ماہِ رمضان میں مستحق خاندانوں کو مالی معاونت کی تقسیم کا عمل پنجاب اور وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کر دیا گیا ہے، تاہم اہلیت کے معیار اور طریقۂ کار پر سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ سرکاری دعوؤں کے باوجود بعض کم آمدن گھرانے فہرستوں سے باہر رہ گئے ہیں جبکہ کچھ ایسے افراد کو بھی ادائیگیاں ہونے کی اطلاعات ہیں جو مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔

پنجاب حکومت کے رمضان نگہبان پروگرام کے تحت تقریباً 47 ارب روپے 42 لاکھ خاندانوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں، ہر خاندان کو 10 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح وفاقی حکومت 38 ارب روپے 1 کروڑ 21 لاکھ خاندانوں میں تقسیم کرے گی، فی خاندان 13 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق رقوم کی ادائیگی بینک اکاؤنٹس، برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس اور اے ٹی ایم نیٹ ورک کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

تاہم زمینی سطح پر بعض بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ لاہور کے رہائشی محمد طاہر، جو دیہاڑی دار مزدور ہیں اور چار بچوں کے کفیل ہیں، نے بتایا کہ گزشتہ سال بھی انہیں امداد نہیں ملی اور اس سال بھی ان کے گھر کوئی سروے ٹیم نہیں آئی۔

اسی طرح جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد انصر، جو لاہور میں ویٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ اپنی معذور بیٹی کے علاج کے اخراجات کے باوجود انہیں اس سال بھی امداد نہیں ملی۔

محمد انصر کے مطابق جب انہوں نے ہیلپ لائن پر رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ادائیگیاں سروے رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی ہیں اور ان کے گھر دوبارہ سروے کیا جائے گا، تاہم اس کے لیے کوئی مدت نہیں بتائی گئی۔
دوسری جانب لاہور کے ایک شہری آصف نے بتایا کہ گزشتہ سال انہیں یونین کونسل کی جانب سے 10 ہزار روپے کا چیک وصول کرنے کے لیے فون کیا گیا، حالانکہ ان کی ماہانہ آمدن ایک لاکھ روپے سے زائد ہے اور انہوں نے کبھی امداد کے لیے درخواست بھی نہیں دی۔ اس مثال نے مستحقین کی نشاندہی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی نائب چیئرپرسن جہاں آرا وٹو کے مطابق اہلیت کا تعین نیشنل سوشو اکنامک رجسٹری اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر کیا گیا۔ کم آمدن خاندانوں کو غربت اسکور کے تحت ترجیح دی گئی جبکہ ضلعی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ افسران نے فہرستوں کی تصدیق کی۔

 حکام کا کہنا ہے کہ عمومی معیار میں سرکاری ملازمت نہ ہونا، قابل ذکر جائیداد کا مالک نہ ہونا اور نادرا میں درست اندراج شامل ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سیکرٹری عامر علی احمد نے کہا کہ شفاف ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی کی جائے گی اور گزشتہ سال کے مقابلے میں امدادی رقم میں اضافہ کیا گیا ہے۔

تاہم ماہرین معاشیات نے موجودہ طریقۂ کار پر محتاط تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق سوشل رجسٹری پر انحصار سے عمل تیز ہو جاتا ہے، لیکن پرانا یا غیر اپ ڈیٹ شدہ ڈیٹا شمولیت اور اخراج کی غلطیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورت میں حقیقی مستحق خاندان فہرست سے باہر رہ سکتے ہیں جبکہ کچھ غیر مستحق افراد شامل ہو سکتے ہیں۔

معاشی ماہر اور آڈٹ اسپیشلسٹ کوکب زبیری کا کہنا ہے کہ صرف شناختی کارڈ یا رجسٹری ڈیٹا کی بنیاد پر تصدیق کافی نہیں۔ ان کے مطابق زمین کی ملکیت، آمدن اور ملازمت کی حیثیت کی جانچ کے ساتھ فیلڈ ویریفکیشن کو مؤثر بنایا جانا ضروری ہے۔

انہوں نے پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری کے ڈیٹا کو فوری اپ ڈیٹ کرنے، مختلف ذرائع کے ڈیٹا کو باہم ملا کر جانچنے اور مؤثر شکایات ازالہ نظام فعال کرنے کی تجویز دی۔

ماہرین نے یہ بھی کہا کہ نقد امداد کے ساتھ ساتھ منڈیوں میں قیمتوں کے استحکام اور ہدفی سبسڈی جیسے اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ حقیقی فائدہ مستحق خاندانوں تک پہنچ سکے اور مجموعی ریلیف مؤثر ثابت ہو سکے۔

دوسری جانب 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے نہ لمبی قطاریں ہوں گی اور نہ ہی کسی مشقت کا سامنا ہوگا، جبکہ رمضان نگہبان پیکیج کے حوالے سے معلومات کے لیے 08000-2345 ہیلپ لائن اور ہر تحصیل میں 160 خصوصی مراکز فعال کیے گئے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعظم ہیلپ لائن نمبر 9999 پر کال کر کے شہری امدادی پروگراموں سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح 13000 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے جہاں مستحق افراد کو حکومتی ریلیف اقدامات سے متعلق تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

حکام نے بتایا کہ راشن کارڈ سے متعلق معلومات اور شکایات کے ازالے کے لیے ہیلپ لائن نمبر 080002345 جاری کیا گیا ہے۔ شہری اس نمبر پر کال کر کے اپنی درخواست کی صورتحال اور دیگر امور کے بارے میں رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید برآں، مریم کو بتائیں پروگرام کے تحت شکایات یا معلومات کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1000 مختص کیا گیا ہے۔ شہری اس نمبر پر کال کر کے اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں یا امدادی اسکیموں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مستفید خواتین اور دیگر بنفشری افراد کے لیے بھی خصوصی ہیلپ لائن نمبر 080026477 جاری کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس نمبر پر رابطہ کر کے ادائیگی، تصدیق یا دیگر متعلقہ معاملات کے بارے میں رہنمائی لی جا سکتی ہے۔

Ansa Awais

Content Writer