ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دریائے راوی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ، 2 لاکھ کیوسک کا ریلہ متوقع

دریائے راوی میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ، 2 لاکھ کیوسک کا ریلہ متوقع
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  دریائے راوی میں سیلابی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے، شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 51 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہےجبکہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آج دوپہر تک 2 لاکھ کیوسک کا ریلہ گزر سکتا ہے۔

 پی ڈی ایم اے کے مطابق شاہدرہ پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 60 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے جبکہ آئندہ چند گھنٹوں میں یہ بہاؤ 2 لاکھ کیوسک تک بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔اسی طرح جسڑ کے مقام پر بھی 1 لاکھ 39 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ گزر رہا ہے۔سیلابی صورتحال کے پیش نظر دریا سے منسلک علاقوں سے بڑے پیمانے پر انخلا کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ لاہور کی پانچ تحصیلوں کے مجموعی طور پر 22 موضع جات کی آبادیاں مکمل یا جزوی طور پر خالی کرا لی گئی ہیں۔

کمشنر لاہور نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حالات قابو میں ہیں اور تمام محکمے اپنی ذمہ داری سے کام کر رہے ہیں۔ڈی سی لاہور سید موسیٰ رضا کے مطابق اب تک 1208 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے, ریور بیڈ اور فلڈ پلین میں موجود مویشیوں کو بھی منتقل کر دیا گیا ہے۔

دریائی راستے پر بننے والی متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہےاور  ایسی سوسائٹیوں کو این او سی جاری کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اُنہوں نے بتایا کہ تھیم پارک سوسائٹی میں پانی داخل ہو چکا ہے۔
متاثرہ تحصیلوں میں علامہ اقبال ٹاؤن، راوی، واہگہ، سٹی اور رائیونڈ شامل ہیں۔ ان علاقوں میں ریلیف کے لیے کرول وار، اراضی جنجوعہ، جیا موسیٰ سمیت 10 مقامات پر ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ، لاہور پولیس، محکمہ انہار، لائیو اسٹاک، اور دیگر محکمے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ریسکیو 1122 کا عملہ متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپوں میں موجود ہے اور مسلسل نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔
لاہور کی 5 تحصیلوں کے 22 موضع جات کو خالی کروا لیا گیا ہے اور دریائے راوی کے بیڈ سے تمام افراد کا انخلا مکمل کر لیا گیا ہے۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ دریائے راوی کی حد تک فی الوقت صورتحال کنٹرول میں ہے تاہم پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث مزید اقدامات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ  پنجاب میں دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کےسیلاب کے باعث لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ شاہدرہ کے مقام پر صبح ساڑھے 6 بجے پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 48 ہزار 440 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق پنجاب کی 38 سالہ تاریخ میں پہلی بار تینوں بڑے دریاؤں میں بیک وقت شدید سیلاب کی صورتحال پیدا ہوئی ہے تاہم وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں بروقت اور پیشگی اقدامات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچا لیا گیا۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے۔ پاک فوج، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر ادارے میدان میں متحرک ہیں۔ وزیراعلیٰ خود ریسکیو اور ریلیف آپریشن کی براہ راست نگرانی کر رہی ہیں۔

دریائے راوی کے سیلاب سے 1 ہزار 432 موضع جات کے 12 لاکھ 36 ہزار 824 شہری متاثر ہوئے، صرف راوی کنارے آباد 80 موضع جات متاثر، جن میں 74 ہزار 775 شہری متاثر ہوئے۔ 1 لاکھ 48 ہزار سے زائد مال مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے اور 234 جانوروں کے علاج کے کیمپ فیلڈ میں کام کر رہے ہیں۔اب تک کی غیر معمولی سیلابی صورتحال میں ایک بھی انسانی جان کا نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔