سٹی42: روسی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیردفاع خواجہ آصف پہلگام واقعے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لئے روس، چین اور مغربی ممالک سے مودی کے الزامات کی تحقیقات کروانا چاہتے ہیں۔
وس کے میڈیا میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستان کے خلاف حالیہ اقدامات سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے متعلق رپورٹ میں نشان دہی کی گئی ہے کہ پاکستان کے وزیر دفاع نے اس کشیدگی کے ایٹمی جنگ میں تبدیل ہونے کا خدشہ رد کردیا ہے۔
روسی میڈیا آؤٹ لیٹ سے انٹرویو کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ چین، روس یا مغربی ممالک اس بحران میں بہت زیادہ مثبت کردار ادا کرسکتےہیں۔
چین، روس یا مغربی ممالک تحقیقاتی ٹیم بھی بناسکتے ہیں کہ آیا بھارت یا بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی واقعے پرجھوٹ بول رہے ہیں یاسچ۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بین الاقوامی ٹیم کو حقائق جاننے دیں، یہ معلوم کیا جانا چاہیےکہ بھارت یا کشمیر میں مجرم ہےکون تاہم باتوں یا خالی بیانات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، شواہد ہونےچاہیں کہ پاکستان ملوث ہے یا پاکستان میں کسی نے ان لوگوں کی مدد کی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اب تک بھارت کی جانب سے صرف کھوکھلے بیانات دیے جارہے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں۔
روسی میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق وزیردفاع خواجہ آصف کے نزدیک صورتحال ایٹمی جنگ کی طرف نہیں جائے گی تاہم وزیردفاع نے خبردار کیا ہے کہ بھارت نےدراندازی کی یا حملہ کیا تو متناسب سے زیادہ جواب دیاجائےگا۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ بھارت نےکشیدگی نہ بڑھائی توپاکستان بھی فوجی کارروائی سےگریزکرےگا، پاکستان کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا اور نہ ہی کسی اقدام میں پہل کرنا چاہتا ہے۔