سٹی 42: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے خیبرپختونخوا حکومت سنجیدہ ہے، صوبائی حکومت اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس، فوجی جوان اور عام شہری شہید ہورہے ہیں، گزشتہ روز درازندہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں بھی کئی پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہوئے دہشتگردی کی واپسی کے خدشات پر ہم پہلے ہی امن پاسون کرچکے تھے اور چیختے چلاتے رہے کہ ایک بار پھر پختونوں کے سر کا سودا ہورہا ہے۔ ایک دفعہ پھر خیبرپختونخوا کو لہولہان کرنے اور دہشتگردی مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھنے والا فوجی جوان شہید ہو تو وہ ہمارا اپنا ہے، پولیس اہلکار اور عام شہری کسی بھی فرقے، صوبے یا وردی سے ہوں، ہمارے اپنے لوگ ہیں اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے پر ہماری تنقید کسی نشست کی محتاج نہیں، خیبرپختونخوا کا نوجوان جانتا ہے کہ دہشتگردی واپس لانے والی پالیسیوں سے کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں اپنا امن پیارا ہے، اسی لیے آتے ہی ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگا کر امن و امان کیلئے 35 ارب روپے دیے۔ مالی سال 2026-27 میں پولیس کیلئے 191.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 103 فیصد زیادہ ہیں جب تک امن نہیں آئے گا، تب تک ترقی اور خوشحالی نہیں آئے گی۔ وفاقی اداروں کو ادائیگی کے باوجود خیبرپختونخوا کو اے پی سیز اور دیگر مطلوبہ آلات فراہم نہیں کیے جارہے۔
اُنہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے لوگ اپنے شہداء کے جنازے اٹھا رہے ہیں اور حکومت کو اس تکلیف کا احساس ہے بند کمروں میں بننے والی پالیسی 22 سال سے کارآمد ثابت نہیں ہوئی، 22 بڑے آپریشنز اور 14 ہزار چھوٹے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے باوجود دہشتگردی ختم نہیں ہوئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے 100 دن میں عملی تبدیلی لائی جاسکتی ہے، ہماری پالیسی پر عمل کیا جائے نفرتیں پھیلانے والی زبان پاکستان کو تقسیم کرنے کا باعث بن رہی ہے۔