ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

محمد رضوان کا این سی سی آئی اے سے عدم تعاون، معاملہ طول پکڑنے لگا

سائبر پٹرولنگ کے دوران کچھ مشکوک چیزیں سامنے آئی تھیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ امام الحق کی جانب سے تعاون کے بعد ان سے متعلق معاملہ آئندہ ڈیڑھ ہفتے میں سامنے آنے کی توقع ہے

محمد رضوان کا این سی سی آئی اے سے عدم تعاون، معاملہ طول پکڑنے لگا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

شہباز علی:سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد رضوان کے این سی سی آئی اے سے مبینہ عدم تعاون کے باعث ان سے متعلق انکوائری کا معاملہ طول پکڑنے لگا ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے نے محمد رضوان اور اوپنر امام الحق سے متعلق معاملے کی تحقیقات کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد رضوان عدالتی حکم کے باوجود این سی سی آئی اے سے تعاون نہیں کر رہے۔ این سی سی آئی اے نے انہیں ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق انکوائری کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے، تاہم محمد رضوان کی جانب سے کبھی شہر میں موجود نہ ہونے اور کبھی وکیل سے رابطے کا مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اوپنر امام الحق نے ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد این سی سی آئی اے سے تعاون شروع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امام الحق کی جانب سے تعاون کے بعد ان سے متعلق معاملہ آئندہ ڈیڑھ ہفتے میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق سائبر پٹرولنگ کے دوران کچھ مشکوک چیزیں سامنے آئی تھیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی طور پر محمد رضوان اور امام الحق نے تقریباً 70 چیزوں سے متعلق سوالات کے جوابات دیے، جبکہ انکوائری ٹیم نے دونوں کھلاڑیوں کو بعض معاملات سے متعلق معلومات یاد بھی دلائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے مزید فرانزک آڈٹ کے لیے محمد رضوان کا فون ان لاک کروانا چاہتی ہے۔ محمد رضوان کے عدم تعاون اور مبینہ تاخیری حربوں کے باعث انکوائری ٹیم کے شکوک و شبہات میں اضافے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

این سی سی آئی اے پیر کے روز ایک بار پھر محمد رضوان سے رابطہ کرے گی اور عدم تعاون کی صورت میں انہیں ایک اور نوٹس جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر محمد رضوان کا عدم تعاون کا رویہ برقرار رہا تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق محمد رضوان کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی بعض منفی مہم بھی معاملے میں شکوک و شبہات کا باعث بن رہی ہے۔ تاہم آئی سی سی کی جانب سے تاحال این سی سی آئی اے سے کسی رابطے کی اطلاع نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 6.1.2 کے تحت کھلاڑی متعلقہ اتھارٹیز سے تعاون کے پابند ہیں۔ انکوائری میں تعاون نہ کرنا اور تاخیر کا باعث بننا بھی ضابطے کے تحت معاملے کا حصہ بن سکتا ہے، تاہم محمد رضوان سے متعلق حتمی صورتحال تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔