ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں سب سے بڑی وِکٹ اُڑا دی ؟

پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں سب سے بڑی وِکٹ اُڑا دی ؟

سٹی 42 : آزاد کشمیر میں عوام کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہونے والی انوار حکومت سے جان چھڑانے کے لئے پیپلز پارٹی کی کوشش کو بڑی کامیابی مل گئی۔

کل شام پاکستان پیپلز پارٹی سے سیاست کا آغاز کرنے والے آزاد کشمیر کے سینئیر سیاستدان بیرسٹر سلطان محمود چوہدری بھی پیپلز پارٹی مین واپس آنے کے لئے مان گئے تھے۔ بیرسٹر سلطان کے انوار الحق کی حمایت سے پیچھے ہٹ جانے کے بعد آج آزاد کشمیر کے وزیراعظم انوار الحق نے استعفیٰ دے دیا ۔ 

اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی میں تعاون کرنے کے لئے  پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک کے اہم لیڈر بیرسٹر سلطان محمود سے براہ راست رابطہ کیا تھا، اس رابطے کے نتیجہ میں باہمی تعاون کی بات آگے بڑھی۔ فارورڈ بلاک کے لیڈر بیرسٹر سلطان محمود نے اپنے گروپ کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی ان ہاؤس تبدیلی میں معاونت کرنے کی حامی بھر لی اور کہا کہ سپیکر ان کے ساتھیوں میں سے بننا چاہئے۔ 
 بیرسٹر سلطان محمود کے ساتھ رابطہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئیر لیڈر چئیرمین بلاول کی پھپھو فریال ٹالپر نے کیا۔ ان کے ساتھ بات چیت میںبیرسٹر سلطان نے یہ نکتہ اٹھایا کہ وہ بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔ صدر کی ملک سے باہر جانے کی صورت میں آزاد کشمیر کا سپیکر از خود قائم مقام صدر بن جاتا ہے؛ بیرسٹر سلطان محمود چاہتے ہیں کہ سپیکر ان کے گروپ سے بنوایا جائے۔
ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا اپنے سابق رکن بیرسٹر سلطان محمود کو واپس لانے کے لئے ان کی فرمائش من و عن پوری کرنے کی طرف رجحان دکھائی دیتا ہے۔ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری علاج کی غرض بیرون ملک جانا چاہتے ہیں اور ان کی تجویز کو ماننے میں  پیپلز پارٹی کا ہر طرح فائدہ ہے۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ ان کے گروپ کے ارکان بھی پیپلز پارٹی سے تعاون کریں گے تو پیپلز پارٹی کسی دوسری پارٹی کی مدد کے بغیر آزاد کشمیر کے ناپسندیدہ وزیراعظم انوار سے جان چھڑانے میں آسانی سے کامیاب ہو جائے گی۔

 بیک ڈور رابطوں میں تعاون کا فارمولا طے ہوتے ہی آزاد کشمیر کی سیاست میں اپ سائیڈ ڈاؤن ہوگئی۔ 

 پیپلز پارٹی کو تیس ارکان اسمبلی کی حمایت  حاصل

آزاد کشمیر میں عوام کو ناپسندیدہ حکومت سے نجات دلوانے کے لئے پیپلز پارٹی کی کوشش کل رات فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی تھی۔ 

پیپلز پارٹی قیادت نے یقین کے ساتھ بتایا تھا کہ آج کی رات کشمیر میں منظرنامہ بدل جائے گا۔ 

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے انوار حکومت کو رخصت کر کے عوام دوست حکومت لانے کیلئے اپنی کوشش کے کامیاب ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

پیپلز پارٹی نے کہا تھا کہ اب  30 سے زائد ارکان اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی حمایت کے بغیر حکومت بنانے میں کایماب ہو جائیں گے۔

فریال ٹالپر کا ڈِنر 

پیپلز پارٹی کی لیڈر محترمہ فریال تالپور کی جانب سے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں کل رات 10 بجے ڈنر دیا گیا، جس میں طاقت کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ 

ڈنر میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی، آزاد کشمیر اسمبلی میں جموں کے مہاجرین کیے نمائندہ ارکان اور صدر  بیرسٹر سلطان محمود  گروپ کے ارکان شریک ہوئے۔ 

بیرسٹر سلطان  محمود کے نمائندوں نے زرداری ہاؤس میں محترمہ  فریال تالپور کے ساتھ ملاقات میں ووٹ کی یقین دہانی کرادی تھی۔

ذرائع کے مطابق، بیرسٹر گروپ کے 5 اور مہاجرین نشستوں کے 5 ارکان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔

مزید دو ارکان وہ ہیں جن کی کی حمایت اب تک خفیہ رکھی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے مطابق دونوں دھڑوں کی شمولیت کے بعد 30 سے زائد ارکان کا ساتھ حاصل ہے۔

کل رات یہ بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی آج پاور شو کے ذریعے اپنی عددی برتری ثابت کرے گی اور تحریک عدم اعتماد جمع کروائے گی۔

ڈنر کے بعد چوہدری یاسین اور  سردار الیاس کی گفتگو

فریال تالپور کےعشائیے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری یاسین نے کہا کہ وزیراعظم انوارالحق نے خود کہا تھا کہ اگر 27 ارکان سامنے آگئے تو وہ استعفا دے دیں گے، اب اخلاقی طور پر انہیں اپنے وعدے کے مطابق مستعفی ہوجانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم نے دو دن کے اندر استعفا نہ دیا تو پیپلز پارٹی تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائے گی۔

سردار تنویر الیاس نے دعویٰ کیا کہ ”27 کا گولڈن نمبر پورا ہوچکا ہے، ہمارے پاس ویڈیوز اور تصاویر بطور ثبوت موجود ہیں۔“

ان کا مزید کہنا تھا کہ ”فارورڈ بلاک کے تمام ارکان دراصل پیپلز پارٹی کے ہی کارکن ہیں اور نئے قائدِ ایوان کا فیصلہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔“

فریال ٹالپر کا ڈنر سیاسی طاقت کا اظہار تھا۔ کل رات سے ہی قیاس کیا جا رہا تھا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم انوار اب استعفیٰ دے کر وزیراعظم ہاؤس پیپلز پارٹی کے نامزد وزیراعظم کے لئے خالی کر دیں گے اور تحریک عدم اعتماد پیش کئے جانے کی نوبت نہیں آئے گی۔