سٹی42: پی ٹی آئی آزادکشمیر ارکانِ اسمبلی پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں شامل ہو گئے۔
پی ٹی آئی کے یہ پانچ ارکان کشمیر اسمبلی اس وقت پی ٹی آئی فارورڈ بلاک میں تھے اور چوہدری انوار کی ھکومت میں وزیر ہیں۔ آج ان پانچوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
انوار حکومت کے بک وقت کے 5 وزرا کے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان سے وزیراعظم کی رہی سہی قوت بھی ختم ہو گئی ہے، اس کے باوجود آج رات تک ان کے استعفے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
پی ٹی آئی کے پانچوں وزرا نے فریال تالپور سے ملاقات کر کے پیپلز پارٹی مین آنےکا اعلان کیا۔ اب قانون ساز اسمبلی میں پیپلز پارٹی پارلیمانی گروپ کے ارکان کی تعداد 22 ہے۔
آج 25 اکتوبر کو آزاد کشمیر کے وزیرہائرایجوکیشن ظفراقبال ملک بھی پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔
انہوں نے بھی فریال تالپور سے ملاقات کی اور پیپلز پارٹی میں آنے کا شمولیت کا اعلان کیا۔ اس اضافہ کے ساتھ پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے ارکان اسمبلی کی تعداد 23 تک پہنچ گئی۔
پیپلز پارٹی آزادکشمیر میں اپنی حکومت بنائیگی، کل ہفتے کےروز پیپلز پارٹی کے مینٹور پریذیڈنٹ آٖصف علی زرداری نے انوار حکومت سے عوام کی جان چھڑانے کے لئے آزاد کشمیر اسمبلی مین تحریک عدم اعتماد لانے کی اجازت دی ہے۔ اس کے بعد ایک ہی دن میں پیپلز پارٹی اور دوسری پارٹیوں کی آزاد کشمیر اسمبلی مین عددی قوت میں غیر معمولی تبدیلیاں آئی ہیں۔ عدم اعتماد لانےکے لئے درکار عددی قوت تیزی سے پیپلز پارٹی میں مرتکز ہو رہی ہے۔
آزاد کشمیر میں نئی حکومت بننا اب یقینی ہے اور قیاس کیا جا رہا ہے کہ پرائم منسٹر انوار تحریک عدم اعتماد آنے کا انتظار نہین کریں گے، پہلے ہی استعفیٰ دے کر پیچھے ہٹ جائین گے۔
پارٹیوں کی عددی قوت
آزاد کشمیرقانون ساز اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو 27 اراکین کی حمایت درکار ہے جبکہ قانون سازاسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد کل 17 تھی جو مزید 6 ارکان کے شامل ہونے کے بعد 23 ہوگئی۔
مسلم لیگ ن 9 ارکان اسمبلی کے ساتھ ایوان میں موجود ہے۔ مسلم لیگ نون نے آج اتوار کے روز ہی یہ اعلان کیا ہے کہ وہ انوار حکومت کو ہٹانے کی سرگرمی مین شریک ہو گی۔ مسلم لیگ نون یقیناً پیپلز پارٹی کی نئی حکومت بننے مین معاونت کرے گی؛ کیسے اور کس قیمت پر یہ ابھی سامنا آنا باقی ہے۔