ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سہیل آفریدی کی اڈیالہ جیل روڈ چیک پوسٹ پر مامور پنجاب پولیس کے افسر کو دھمکی

Suhail Afridi, Adiala Jail Road, Gorakhpur Checkpost, City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آج ایک بار پھر اڈیالہ جیل والی سڑک پر آ گئے۔ انہوں نے پولیس چیک پوسٹ پر موجود افسر کو دھمکایا لیکن آفیسر نے خاموشی سے سب کچھ سنا، کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ آٹھویں مرتبہ ہے کہ  حال ہی میں وزیراعلیٰ بننے والے سہیل آفریدی خیبر پختونخوا میں اپنی سرکاری ذمہ داریاں چھوڑ کر اڈیالہ جیل والی سڑک پر آ کر بیٹھے ہیں۔ 

پنجاب پولیس نے اڈیالہ جیل والی سڑک پر جیل کی حفاظت کے لئے اطراف میں سڑک پر چیک پوسٹیں بنا رکھی ہیں۔ ان چیک پوسٹوں سے آگے صرف متعلقہ افراد کو ہی مکمل چھان بین کے بعد آگے جانے کی اجازت ملتی ہے۔  گورکھپور چیک پوسٹ پر جہاں سب کو روکا جاتا ہے، وہاں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو بھی روکا گیا تو وہ مشتعل ہو گئے اور چیک پوسٹ پر تعینات پولیس افسر کو دھمکاتے ہوئے کہا، ہم بھی اپ کے ساتھ ایسا سلوک کریں تو کیسا لگے گا ۔ پولیس افسر اس پر بالکل خاموش رہے، انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی کسی بھی بات  پر کچھ نہیں کہا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سہیل آفریدی نے گورکھپور پوسٹ پر تعینات پولیس انسپکٹر اعزاز سے کہا،  میں ایک صوبے کے ساڑھے چار کروڑ عوام کا نمائندہ ہوں۔ آٹھویں مرتبہ میں یہاں آ رہا ہوں ۔ مجھے بانی پی ٹی آئی سے ملنے  کیوں نہیں دیا جا رہا ۔

سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ  ایک صوبے کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے پنجاب پولیس کے افسر کو دھمکاتے ہوئے کہا،  ہم بھی اپ کے ساتھ ایسا سلوک کریں تو کیسا لگے گا ۔

خیبر پختونخوا نے مزید کہا، "کون ہے اندر سپرٹنڈنٹ ہے یا کوئی اور بیٹھا ہے ? بتائیں, ملاقات کروائیں. " 

انسپکٹر اعزاز نے سہیل آفریدی کے کسی جملے کا کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے سنتے رہے۔ اس پر سہیل آفریدی نے کہا،  میں یہاں موجود ہوں۔ میں ملاقات کے لیے آیا ہوں اور میں یہاں بیٹھوں گا ۔" انسپکٹر اعزاز اس پر بھی خاموش رہے۔ 
انسپیکٹر اعزاز مسلسل خاموشی سے سنتے رہے اور سہیل آفریدی غصے کے ساتھ بولتے رہے۔ اس دوران میڈیا کے نمائندے وہاں موجود تھے۔