ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بغیر مقررہ طریقہ کار کے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنا غیرقانونی قرار

 بغیر مقررہ طریقہ کار کے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنا غیرقانونی قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کے سفری حقوق سے متعلق اہم فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فرد کا نام قانونی بنیاد اور باقاعدہ منظوری کے بغیر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سفری پابندیوں کے لیے قانون کے مطابق اختیار اور طریقہ کار لازمی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ کسی شہری پر سفری پابندیاں صرف مجاز قانونی اتھارٹی کی منظوری اور مقررہ قانونی عمل کے تحت ہی عائد کی جا سکتی ہیں، جبکہ غیر معینہ مدت تک نام برقرار رکھنا قانون کے منافی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست گزار زین عتیق کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ جولائی 2022 میں ترکیہ سے ڈی پورٹ کیے جانے کے بعد ان کا نام فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں شہری کی درخواست پر ایف آئی اے نے دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باعث نام فہرست سے نکالنے کی سفارش بھی کی۔

فیصلے میں عدالت نے نشاندہی کی کہ پاسپورٹ اتھارٹی نے نام خارج کرنے کی درخواست عدم پیروی کی بنیاد پر مسترد کر دی، تاہم ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ کسی مجاز اتھارٹی نے باضابطہ طور پر شہری کا نام پی سی ایل میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہو۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر کسی فرد کو غیرقانونی داخلے یا کسی ممنوعہ عمل کے باعث بیرونِ ملک سے واپس بھیجا گیا ہو تو بھی اسے بغیر قانونی اختیار کے غیر معینہ مدت تک پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل نہیں رکھا جا سکتا۔

فیصلے کے مطابق ریکارڈ میں نہ تو پاکستان یا ترکیہ میں درخواست گزار کے خلاف کسی سزا کا ثبوت موجود ہے اور نہ ہی کوئی فوجداری مقدمہ زیرِ التوا ہے، اس لیے پابندی برقرار رکھنے کا قانونی جواز ثابت نہیں ہو سکا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں شیریں مزاری کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں پر سفری پابندیاں صرف قانونی تقاضے پورے ہونے کی صورت میں ہی عائد کی جا سکتی ہیں، جبکہ موجودہ کیس میں متعلقہ حکام ایسا کرنے میں ناکام رہے۔