ویب ڈیسک: بھارت میں یوگا گرو بابا رام دیو کی کمپنی پتنجلی فوڈز کو اپنے گیہوں کے آٹے کے ایک مخصوص بیچ کو بازار سے واپس منگانے کا حکم دیا گیا ہے۔بھارتی ریاست کیرالہ کے فوڈ سیفٹی حکام کی چیکنگ میں اس بیچ میں کلورپائریفوس نامی کیڑے مار دوا کی مقدار مقررہ قانونی حد سے زیادہ پائی گئی، جس کے بعد کمپنی کے شیئرز میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی اور اسٹاک 52 ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے 24 جولائی کو اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع میں بتایا کہ فوڈ سیفٹی حکام نے گیہوں کے آٹے کے ایک بیچ میں کیڑے مار دوا کے باقیات کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی ہے۔ اس کے بعد کیرالہ کے ضلع کوٹایم میں اسسٹنٹ کمشنر فوڈ سیفٹی کے دفتر نے 20 جولائی کو متعلقہ بیچ کو مارکیٹ سے واپس منگانے کی ہدایت جاری کر دیں۔اگرچہ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مسئلہ صرف ایک مخصوص بیچ تک محدود ہے، تاہم فوڈ سیفٹی سے متعلق اس واقعے نے صارفین اور سرمایہ کاروں دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔
بھارتی ماہرین کے مطابق کلورپائریفوس ایک آرگینو فاسفیٹ قسم کی کیڑے مار دوا ہے،جسے فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں پر قابو پانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اگر خوراک میں اس کی مقدار قانونی حد سے زیادہ ہو تو یہ انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے زیادہ استعمال سے اعصابی نظام متاثر ہونے، چکر آنے، سر درد، متلی اور معدے سے متعلق دیگر مسائل پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
میڈیا پر خبر سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی اور پیر کے روز پتنجلی فوڈز کے شیئرز میں نمایاں فروخت دیکھی گئی۔ کمپنی کا شیئر، جو اپنے بلند ترین درجے پر 552 روپے تک پہنچا تھا،جو گر کر تقریباً 344 روپے پر آ گیا۔اسطرح اسٹاک اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 37.74 فیصد نیچے آ چکا ہے۔ کمپنی کا 52 ہفتوں کا کم ترین سطح 328.20 روپے ہے اور موجودہ قیمت اس کے بہت قریب پہنچ گئی ہے، جس سے بازار میں سرمایہ کاروں کی بے چینی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔