ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سوئی ناردرن کے ملازمین 41 کروڑ روپے کے گیس پائپ لائن چوری کرکےلے گئے

سوئی ناردرن کے ملازمین 41 کروڑ روپے کے گیس پائپ لائن چوری کرکےلے گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : سوئی ناردرن کے اپنے  ملازمین کے 41 کروڑ روپے سے زائد کے گیس پائپ کی چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔  سوئی ناردرن  گیس پائپ لائنز کمپنی نے 41 اہلکاروں کو چوری کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
 سوئی ناردرن کے اپنے ہی ملازمین41 کروڑ روپے سے زائد کے گیس پائپ  کمپنی کے سٹورز سے نکال کر لے گئے۔ کمپنی کے ملازموں کے قیمتی سامان کی چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف  پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آنے والی دستاویزات سے ہوا ہے۔ ایف آئی اے حکام نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے روبرو پیش ہو کر بتایا کہ    ٹرکوں کے حساب سے ایس این جی پی ایل اسٹور سے مال نکالا گیا، 18 ملزمان کےخلاف مقدمہ درج کیا گیا، سب کی ضمانت ہوگئی۔

 نوید قمرکی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سوئی نادرن کے اپنے ہی ملازمین کا گیس پائپ کی چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ مانگا منڈی میں گیس پائپ کی چوری سے 41 کروڑ روپے سے زائد نقصان کا ہوا ہے۔ آڈٹ حکام کے مطابق اسٹور سے 41 کروڑ روپے سے زائد کے پائپ چوری کیے گئے اور ایف آئی اے نے اس چوری پرمجموعی طور پر41 انکوائریاں کی ہیں۔

 حکام کا کہنا ہے کہ ٹرکوں کے حساب سے ایس این جی پی ایل اسٹور سے مال نکالا گیا ہے۔  پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ یہ ادارے کی اپنی چوری ہے۔  یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔  پہلے کہتے تھے لوگ چوری کرتےہیں، اب ادارے کےملازم ہی چوری کررہے ہیں۔

  ایس این جی پی ایل کے حکام نے  کمیٹی کو بتایا کہ سکیورٹی کیمرے براہ راست ہیڈآفس میں رپورٹ کرتے ہیں۔ خورد برد کئے گئے  41 کروڑ روپے میں سے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ (16 ملین) روپے کی ریکوری کرلی گئی ہے۔ سوئی ناردرن  گیس پائپ لائنز کمپنی نے 41 اہلکاروں کو چوری کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

 ایف آئی اے حکام  نے بتایا کہ ایس این جی پی ایل کے  18 ملزمان کےخلاف مقدمہ درج کیا گیا۔سب کی ضمانتیں ہوگئیں۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نوید قمر  نے کہا کہ عدالت نے ان سب لوگوں کی ضمانت کیسے لے لی؟ 

 گیس کمپنی کے حکام نے بتایاکہ ایس این جی پی ایل کے بورڈ نے اس کیس کیلئے خصوصی کمیٹی بنائی ہے، ایف آئی اے نے4 کروڑ40 لاکھ روپے کی ریکوری کی ہے۔   ایف آئی اے نے سوئی ناردرن سے فارنزک آڈٹ کی درخواست کی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف آئی اے سے پائپ چوری کی تحقیقات پررپورٹ طلب کرلی۔

 اگست 2024 میں، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) میں ایک بڑے بدعنوانی کے اسکینڈل کا پردہ فاش ہوا، جس میں لاہور کے سینٹرل بیس مانگا اسٹور سے 418 ملین روپے سے زائد مالیت کے لائن پائپوں کی چوری کا انکشاف ہوا۔
 SNGPL کے  زیریں عملے اور اعلیٰ حکام کے درمیان ملی بھگت کی وجہ سے چوری شدہ،  قیمتی  لائن پائپ غلط استعمال کیے گئے،  افسروں نے چوری کو چھپانے کے لیے سسٹم کے ریکارڈ میں جعلسازی کی۔  یہ  چوری کی واردات مصری شاہ لاہور میں مانگا بیس اسٹور میں ہوئی۔
 اکتوبر 2023 میں چوری کا پتہ چلنے کے بعد، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے ایک جامع تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

 ایس این جی پی ایل کے دوسرے سٹورز سے بھی اسی نوعیت کی چوریاں سامنے آئیں، ان سب چوریوں کی مالیت  نصف ارب روپے سے کچھ کم نکلی ہے۔