سٹی42: اسرائیل کے مرکزی شہر تل ابیب میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے لئے منگل کے روز احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی میں ساڑھے تین لاکھ شہری شریک ہوئے۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق تل ابیب میں فوج کے ہیڈکوارٹر کے قریب "یرغمالیوں کے اسکوائر" پر منگل کی رات بھی بہت بڑا احتجاجی اجتماع ہوا، اس اجتماع میں شرکت کے لئے بہت بڑی ریلی لے کر لوگ جوق در جوق آئے۔ یہ سب لوگ نیتن یاہو کی اتحادی حکومت سے یرغمالیوں کی رہائی کے لئے جنگ بندی کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
اس احتجاج کے دوران ہوسٹیج سکوائر میں ہر طرف سر ہی سر تھے اور اس چوراہے کی طرف آنے والی تمام سڑکوں پر دور تک لوگوں کا ہجوم تھا۔
اس احتجاج میں اسرائیل کے بہت سے نمایاں لوگ شریک ہوئے۔ احتجاج کے مرکزی علاقہ ہوسٹیج سکوائر سے لوگوں کے باہر نکلتے وقت اداکار لائور اشکنازی نے سٹیج سے اعلان کیا کہ آج رات کو قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے ہونے والے بڑے مظاہرے نے کل 350,000 شرکاء کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
"یہ سب سے زیادہ اخلاقی اور انسانی جدوجہد ہے،" انہوں نے کہا اور مظاہرین سے حکومت کو جنگ بندی پر مجبور کرنے کے لئے سڑکوں پر نکلنا جاری رکھنے کی اپیل کی۔
"ہم نے حکومت کے ساتھ شائستہ رویہ بہت رکھ لیا، کافی ہے!"، اداکار لائور اشکنازی نے آخر میں کہا.
نیتن یاہو کی غزہ جنگ کے متعلق پالیسیوں سے شدید اختلاف رکھنے والے یہ لاکھوں مظاہرین ریلی کے اختتام پر اسرائیل کا قومی ترانہ گانے میں منتظمین کے ساتھ شامل ہوئے۔
پولیس نے فوری طور پر ہجوم کے سائز کا اپنا تخمینہ فراہم نہیں کیا۔ 17 اگست کو اسی طرح کی ایک ریلی کے منتظمین نے بتایا تھا کہ اس دن مظاہرے میں پانچ لاکھ 500,000 افراد نے شرکت کی تھی۔