سٹی 42: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے پیٹرول لیوی کا مسئلہ حل نہ کیا تو لانگ مارچ کریں گے، جبکہ سستا آٹا اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے کے لیے پورے پاکستان میں دستخطی مہم شروع کر رہے ہیں۔
منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لاہور کے جلسہ عام میں حکومت نے اپنے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے کنٹینرز لگا دیے، تاہم جب لوگ بڑی تعداد میں آئے تو کنٹینرز کی کوئی اہمیت نہیں رہی اُنہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی، پیٹرول اور خورونوش کی قیمتوں کا سامنا ہر پاکستانی کو ہے، لیکن کوئی جماعت ان مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعظم نے فون پر بتایا کہ پیٹرول ریلیف پیکج سے 25 لاکھ لوگ رجسٹرڈ ہو گئے ہیں حافظ نعیم نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں پیٹرول لیوی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو لانگ مارچ نکالیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہمیں طعنہ دیا گیا کہ ہم نے میدان چھوڑ دیا، لیکن لاہور کے جلسے میں بتا دیا کہ ہم میدان میں ہیں حکومت کہتی ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے باہر نکلنے کی صورت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو سود ختم کرنا چاہیے اور پہلے مرحلے میں سود کی شرح میں 3 فیصد کمی کی جائے اگر آئی ایم ایف سے اسٹیٹ بینک ڈائریکٹ ہوگا تو ہم مالیاتی طور پر آزاد نہیں ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ پورے پاکستان میں دستخطی مہم کا آغاز کر رہے ہیں، جس کا مقصد سستا آٹا اور پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔ دو کروڑ لوگوں کے دستخط کے ساتھ اپنا مطالبہ حکومت کے سامنے رکھیں گے حکومت نے لیوی ٹیکس کو بجٹ کا حصہ بنا دیا ہے، اپوزیشن نے کیوں باہر نکل کر احتجاج نہیں کیا۔ پارٹیاں چلانے والے اپنے اسپانسرز کے خلاف نہیں جاتے۔
امیر جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کے پی میں گورنر راج لگا تو نفرتیں بڑھیں گی، حکومت ایسا کرنے سے رک جائے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی پر جب آئینی عدالت گئے تو وہ انصاف اور ججز چھٹی پر گئے ہوئے ہیں اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت دفعہ 144 کو جمہوریت پامال کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔