سٹی 42: پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچ گئے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ چین کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے دفاعی تعاون، اقتصادی روابط اور جدید ٹیکنالوجی میں اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین نے دفاع، سلامتی اور انسداد دہشتگردی تعاون کو مزید وسعت دینے اور “ چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” قائم کرنے پر اتفاق کیا جبکہ خطے میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ کردار پر بھی زور دیا گیا۔
چین نے ایک بار پھر پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کیلئے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ دونوں ممالک نے سی پیک فیز ٹو کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے، گوادر کو علاقائی رابطہ مرکز بنانے اور خنجراب راہداری کو مزید فعال کرنے پر اتفاق کیا۔
اعلامیے میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، خلائی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے کا اعلان بھی کیا گیا۔ دونوں ممالک نے پاکستانی خلا بازوں کی چین میں تربیت اور مستقبل میں چینی اسپیس اسٹیشن میں پاکستانی خلا باز کی شمولیت کے امکانات پر بھی اتفاق کیا۔
پاکستان اور چین نے معدنیات، توانائی، صنعتی پارکس اور زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ چین نے 2025 سے 2029 تک پاکستانیوں کیلئے تین ہزار تربیتی مواقع فراہم کرنے کے اعلان کو برقرار رکھا۔
مشترکہ اعلامیے میں جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کیلئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا جبکہ چین نے مسئلہ کشمیر کو تاریخی تنازع قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کی حمایت دہرائی۔
چین نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کے کردار، کثیرالجہتی سفارتکاری اور ایران و امریکا کے درمیان جنگ بندی کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔
اعلامیے میں دہشتگردی کے خلاف عالمی تعاون، دوہرے معیار کی مخالفت اور کثیر القطبی عالمی نظام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا جبکہ پاکستان نے “ون چائنا پالیسی” کی مکمل حمایت کرتے ہوئے تائیوان کو چین کا حصہ قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ مشترکہ اعلامیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاک چین تعلقات اب صرف تاریخی نوعیت کے نہیں رہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی، معیشت اور علاقائی تعاون پر مبنی ایک ہمہ جہت اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔